Deobandi Books

ماہنامہ البینات کراچی جمادی الاولیٰ ۱۴۲۸ھ جون ۲۰۰۷ء

ہ رسالہ

12 - 14
فتنوں کا اصل علاج
فتنوں کا اصل علاج


قرآنِ کریم حق تعالیٰ شانہ کی وہ آخری اور عظیم ترین نعمت ہے جو اس دنیا کو دی گئی ہے‘ قرآنِ کریم ہی وہ قانونِ الٰہی ہے جو انسانوں کو اعلیٰ ترین سطح پر پہنچانے کا ضامن ہے اور جو قوموں کی سربلندی اور حکومتوں کی عزت ومجد کا بہترین ذریعہ ہے‘ دور حاضر کے جتنے بھی فتنے ہیں ان سب کا واحد علاج قرآنی دستور ہے‘ اسلامی ممالک میں آج کل جو فتنے رونما ہو رہے ہیں‘ ان کا اصلی سبب قرآن کریم کی تعلیمات سے انحراف واعراض ہے:
”نسوا اللہ فأنساہم انفسہم اولئک ہم الفاسقون“۔(الحشر:۱۹)
ترجمہ:․․․․”انہوں نے اللہ کو بھلا دیا‘ پھر اللہ نے ان کو اپنی جانوں سے بھلا دیا یہی لوگ ہیں نافرمان“۔ شام ہو یا مصر‘ انڈونیشیا ہو یا افریقہ ان سب میں روز روز کے انقلابات اور بے چینی اور اضطراب کا اصلی سبب یہی ہے کچھ ظاہری اسباب یہی ہیں جن میں روس اور امریکہ کی ریشہ دوانیاں سر فہرست ہیں‘ لیکن ان اسباب میں کوئی تزاحم وتعارض نہیں‘ ظاہر بین ظاہری اسباب کو دیکھتے ہیں اور حقائق بین نگاہیں باطن تک پہنچی ہیں‘ میں سمجھتا ہوں کہ قرآنِ کریم میں سورہٴ حشر کے آخری رکوع میں یہ مضمون بالکل واضح کردیا گیا ہے‘ سورہٴ حشر جس میں یہود کی تباہی وبربادی کی داستان اور ان کا حشر یہ سب کچھ نعمتِ قرآن کی ناشکری اور اس عظیم نظامِ قرآنی سے انکار وجحود کا نتیجہ تھا‘ الغرض سورہٴ حشر کا محور بھی قرآنی دعوت ہے اور یہود کی عبرت انگیز تاریخی داستان پیش کرنے سے مقصد بھی یہی ہے کہ قرآنِ کریم پر عمل نہ کرنے کا انجامِ کار آخر کیا ہوتا ہے‘ اس لئے ابتداءِ سورت میں حق تعالیٰ کی تسبیح وتقدیس کا بیان ہے اور انتہاء میں اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کمال‘ جمال وجلال کا ذکر ہے‘ تاکہ دعویٰ ودلیل دونوں کا ساتھ ہی ساتھ ذکر ہو:
”کتاب انزلناہ الیک مبارک لیدبروا آیاتہ ولیتذکر اولوا الالباب“۔(ص:۲۹)
ترجمہ․”ایک کتاب ہے جو اتاری ہم نے تیری طرف برکت کی تاکہ لوگ اس میں تدبر کریں اور عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں“۔ لفظ ومعنی وحروف ونقوش سب ہی بابرکت ہیں جن کی تفصیلات احادیث میں ہیں تدبرعمل کرنا ہے‘ علمی درجہ میں حکیمانہ حقائق پر غور کرنا ہے‘ ”تذکرہٴ اولی الالباب“ عملی قانون بنانا ہے اور جب تک اسلامی ممالک کا قانون قرآنِ کریم رہا سارے عالم پر ان کا جھنڈا لہراتا رہا اور ایک ہزار برس تک ان کا سکہ چلتا رہا‘ آخر بے عمل وبدعملی کے نتائج سامنے آگئے۔ ”جامع ترمذی“ اور” مسند دارمی“ میں بروایتِ حارث الاعور حضرت علی کی مرفوع حدیث میں ان سب حقائق کا بیان موجود ہے‘ حدیث کا یہ جملہ انتہائی قابل غور ہے:
”من ترکہ من جبار قصمہ اللہ“۔
یعنی اگر کوئی طاقتور حکمران بھی اس قانونِ الٰہی کو ترک کرے گا تو اللہ اس کو ریزہ ریزہ کردے گا۔ انتہائی صدمہ یہ ہے کہ عالمِ اسلام کی سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان جس میں دنیا کی قیادت کی صلاحیت تھی اور ہے‘ وہ آج قرآنِ حکیم سے دردناک بے اعتنائی کررہی ہے اور افسوس کہ نہ صرف بے اعتنائی ‘ بلکہ اس دور میں قرآنی حقائق کے مسخ کرنے اور تحریف کرنے کا جو منظم وپیہم سلسلہ جاری ہے‘ اس کو نہ صرف یہ کہ برداشت کیا جارہا ہے ‘ بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے‘ ان اٹھارہ سال (۱۹۶۵ء) میں دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھے ‘ بلکہ جہاں تھے‘ اس سے بھی پیچھے ہٹ کر پوری طرح قعرِ مذلت میں جاپڑے‘ پرویز اور پھر اس کے نقشِ قدم پر چلنے والے ڈاکٹر فضل الرحمن ڈائرکٹر ادارہٴ تحقیقاتِ اسلامیہ نے سابق تحریفات کا ریکارڈ توڑدیا‘ ادارہ پر حکومت کا لاکھوں روپیہ سالانہ خرچ ہورہا ہے‘ کیا پاکستان اس لئے بنا تھا کہ برطانوی دورِ استعمار میں جو کام نہ ہو سکا وہ پاکستان پورا کردے‘اناللہ واناالیہ رجعون پاکستان کے موجودہ صدرِ محترم (صدرایوب )سے کچھ توقعات وابستہ ہوگئی تھیں اور خیال تھا کہ جس طرح مملکت کا نظم ونسق پہلے سے بہتر ہوگیا ہے‘ دینی اعتبار سے بھی یہ حکومت گوئے سبقت لے جائے گی اور دینی اعتبار سے بھی ایوبی عہد مبارک ثابت ہوگا‘ فریضہٴ جہاد حق تعالیٰ نے میسر فرمایا اور امت نے اس کی برکات کا بھی معائنہ کیا‘ لیکن ان اثرات کو مٹا دیا گیا‘ ہم بارہا ان حقائق کو واشگاف الفاظ میں بیان کرچکے ہیں‘ لیکن سب کچھ صدا بصحراء ثابت ہوا‘ کوئی نتیجہ ابھی تک ظاہر نہیں ہے‘ اگر ہماری آواز نہیں پہنچتی تو افسوس ہے اور اگر پہنچتی ہے اور پھر اس پر غور نہیں ہوتا تو صد افسوس ‘ نتیجہ دونوں صورتوں میں ظاہر ہے‘ ہماری آرزو وخواہش ہے کہ جس طرح ظاہری اعتبار سے پاکستان عہدِ حاضر میں قابلِ فخر بن گیا ہے کاش! دینی اعتبار سے بھی ایسا ہی ہوتا‘ تاکہ اقوامِ عالم میں ہمارا سر اونچا ہوتا اور ایک معیاری اسلامی حکومت ہوتی لیکن از ماست کہ برماست۔
مادیت کا فتنہ اور اس کا علاج
آج کل دنیا طرح طرح کے فتنوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے‘ ان سب فتنوں میں ایک بنیادی اور بڑا فتنہ ”پیٹ“ کا ہے‘ شکم پروری وتن آسانی زندگی کا اہم ترین مقصدص بن کر رہ گیا ہے‘ ہرشخص کا شوق یہ ہے کہ لقمہٴ تر اس کی لذتِ کام ودہن کا ذریعہ بنے اور یہ فتنہ اتنا عالم گیر ہے کہ بہت کم افراد اس سے بچ سکے ہیں‘ تاجر ہو یا ملازم‘ اسکول کا ٹیچر ہو یا کالج کا پروفیسر‘ دینی درس گاہ کا مدرس ہو یا مسجد کا امام اس آفت میں سبھی مبتلا نظر آتے ہیں‘ ہاں فرقِ مراتب ضرور ہے‘ زہد وقناعت‘ ورع وتقویٰ اور اخلاص وایثار جیسے اخلاق وفضائل اور ملکات کا نام ونشان نہیں ملتا‘ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج کا پورا عالم سازو سامان کی فراوانی کے باوجود حرص وآرزو‘ طمع ولالچ اور زرطلبی وشکم پروری کی بھٹی میں جل رہا ہے اور کرب واضطراب ‘ بے چینی وبے اطمینانی اور حیرت وپریشانی کا دھواں ہر چہار سمت پھیلا ہوا ہے۔ دراصل اس قتنہ جہاں سوز کا بنیادی سبب یہی ہے جس کی نشاندہی رحمة اللعالمین انے فرمائی‘ آخرت کا یقین بے حد کمزور اور آخرت کی نعمتوں اور راحتوں کا تصور قریباً ختم ہوچکا ہے‘ مادی نعمتیں اور ان کا تصور اس قدر غالب ہے کہ روحانی قدریں مضمحل ہو چکی ہیں‘ یہی وجہ ہے‘ آج انسانوں کی چھوٹائی بڑائی‘ عزت وذلت اور بلندی وپستی کی پیمائش ”ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم“ کے پیمانے سے نہیں ہوتی‘ بلکہ ”پیٹ اور جیب“ کے پیمانے سے ہوتی ہے‘ مادیت کے اس سیلاب میں پہلے ایمان ویقین رخصت ہوا‘ پھر انسانی اخلاق ملیا میٹ ہوئے‘ پھر اسوہٴ نبوت سے وابستگی کمزور ہوکر اعمالِ صالحہ کی فضا ختم ہوئی‘ پھر معاشرت ومعاملات کی گاڑی لائن سے اتری‘ پھر سیاست وتمدن تباہ ہوا اور اب مادیت کا یہ طوفان انسانیت کو بہیمیت کے گڑھے میں دھکیل رہا ہے‘ افراتفری اور بے اصولی‘ آوارگی وبے راہ روی اور بے رحمی وشقاوت کا وہ دور دورہ ہے کہ الامان والحفیظ۔ الغرض اس ”پیٹ“ کے فتنے نے ساری دنیا کی کا یا پلٹ کر ڈالی‘ دنیا بھر کے عقلاء ”پیٹ“ کی فتنہ سامانی کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں‘ وہ اس فتنہ کے ہولناک نتائج کا تدارک بھی کرنا چاہتے ہیں‘ مگر صدحیف! کہ علاج کے لئے ٹھیک وہی چیز تجویز کی جاتی ہے جو خود سبب مرض ہے ‘ درحقیقت انبیاء کرام علیہم السلام ہی انسانیت کے نباض ہیں اور انہی کا تجویز کردہ علاج اس مریض کے لئے کار گر ہوتا ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ ا نے اس ہولناک مرض کی صحیح تشخیص بہت پہلے فرمادی تھی‘ چنانچہ ارشاد فرمایا:
”واللہ لا الفقر اخشی علیکم ولکن اخشی علیکم ان تبسط علیکم الدنیا کما بسطت علی من کان قبلکم فتنافسوہا کما تنافسوہا فتہلککم کما اہلکتہم“۔ (بخاری ومسلم)
ترجمہ:”بخدا! مجھے تم پر فقر کا اندیشہ قطعاً نہیں‘ بلکہ اندیشہ یہ ہے کہ تم پر دنیا پھیلائی جائے‘ جیساکہ تم سے پہلوں پر پھیلائی گئی‘ پھر تم پہلوں کی طرح ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو‘ پھر اس نے جیسے ان کو برباد کیا‘ تمہیں بھی برباد کرڈالے“۔ لیجئے یہ تھا وہ نقطہٴ آغاز جس سے انسانیت کا بگاڑ شروع ہوا یعنی دنیا کو نفیس اور قیمتی چیز سمجھنا اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اس پر جھپٹنا‘ پھر آپ ا کے تشخیص پر ہی اکتفاء نہیں کیا‘ بلکہ اس کے لئے ایک جامع نسخہٴ شفاء بھی تجویز فرمایا‘ جس کا ایک جزء اعتقادی ہے اور دوسرا عملی۔ اعتقادی جز یہ ہے کہ اس حقیقت کو ہر موقع پر مستحضر رکھا جائے کہ اس دنیا میں ہم چند لمحوں کے مہمان ہیں‘ یہاں کی ہر راحت وآسائش بھی فانی ہے اور ہر تکلیف ومشقت بھی ختم ہونے والی ہے‘ یہاں کے لذائذ وشہوات آخرت کی بیش بہا نعمتوں اور آبد الاباد کی لازوال راحتوں کے مقابلہ میں کالعدم اور ہیچ ہیں‘ قرآنِ کریم اس اعتقاد کے لئے سراپا دعوت ہے اور سینکڑوں جگہ اس حقیقت کو بیان فرمایا گیا ہے‘ سورہٴ الاعلیٰ میں نہایت بلیغ‘ مختصر اور جامع الفاظ میں اس پر متنبہ فرمایا:
” بل تؤثرون الحیاة الدنیا والآخرة خیر وابقی“۔
ترجمہ:․․․”کہ تم آخرت کو اہمیت نہیں دیتے‘ بلکہ دنیا کی زندگی کو اس پر ترجیح دیتے ہو‘ حالانکہ آخرت دنیا سے بدرجہا بہتر اور لازوال ہے“۔ اور عملی حصہ ا س نسخہ کا یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری میں مشغول ہوا جائے اور بطور پرہیز کے حرام اور مشتبہ چیزوں کو زہر سمجھ کر ان سے کلی پرہیز کیا جائے اور یہاں کے لذائذ وشہوات میں انہماک سے کنارہ کشی کی جائے‘ دنیا کا مال واسباب ‘ زن وفرزند‘ خویش واقرباء اور قبیلہ وبرادری کے سارے قصے زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت سمجھ کر صرف بقدرِ ضرورت ہی اختیار کئے جائیں‘ ان میں کسی چیز کو بھی دنیا میں عیش وعشرت اور لذت وتنعم کی زندگی گذارنے کے لئے اختیار نہ کیا جائے‘ نہ یہاں کی عیش کوشی کو زندگی کا مقصد اور موضوع بنایاجائے‘ آنحضرت ا کا ارشاد گرامی ہے:
”ایاک والتنعم‘ فان عباد اللہ لیسوا بالمتنعمین“۔(ابوداؤد)
ترجمہ:․․”عیش وتنعم سے پرہیز کرو‘ کیونکہ اللہ کے بندے عیش پرست نہیں ہوتے“۔
عجیب متضاد طرزِ عمل
تعجب ہے کہ اگر کسی ڈاکٹر کی رائے ہو کہ دودھ ‘ گھی‘ گوشت‘ چاول وغیرہ کا استعمال مضر ہے تو اس کے مشورے اور اشارے سے تمام نعمتیں ترک کی جاسکتی ہیں‘ لیکن خاتم الانبیاء ا کے واضح ارشادات اور وحی آسمانی کے صاف احکام پر ادنیٰ سے ادنیٰ لذت کا ترک کرنا گوارا نہیں ‘ نبی کریم ا اور آپ کی آل واصحاب کی زندگی اور معیارِ زندگی کو اول سے آخر تک دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا کی نعمتوں سے دل بستگی سراسر جنون ہے: ”صحیح بخاری شریف“ میں حضرت ابوہریرہ کا قصہ مروی ہے کہ کچھ لوگوں پر ان کا گذر ہوا‘ جن کے سامنے بھنا ہوا گوشت رکھا تھا‘ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو کھانے کی دعوت دی‘ آپ  نے انکار کردیا اور فرمایا کہ ”محمد ا ایسی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہ کھائی“ مہینوں پر مہینے گذر جاتے مگر کاشانہٴ نبوت میں نہ رات کو چراغ جلتا نہ دن کو چولہا گرم ہوتا‘ پانی اور کھجور پر گذر بسر ہوتی‘ وہ بھی کبھی میسر آتیں کبھی نہیں‘ تین تین دن کا فاقہ ہوتا‘ کمر سیدھی رکھنے کے لئے پیٹ پر پتھر باندھے جاتے اور اسی حالت میں جہاد وقتال کے معرکے ہوتے‘ الغرض زہد وقناعت‘ فقر وفاقہ ‘ بلند ہمتی وجفا کشی اور دنیا کی آسائشوں سے بے رغبتی اور نفرت وبیزاری سیرت طیبہ کا طغرائے امتیاز تھی‘ اپنی حالت کا اس پاک زندگی سے مقابلہ کرنے کے بعد ہم میں سے ہرشخص کو شرم آنی چاہئے‘ ہمارے یہاں سارا مسئلہ روٹی اور پیٹ کا ہے اور وہاں یہ سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا‘ ظاہر ہے کہ یہ زندگی بالقصد اختیار کی گئی تھی‘ تاکہ آئندہ نسلوں پر خدا کی حجت پوری ہوجائے‘ ورنہ آپ ا چاہتے تو آپ ا کو منجانب اللہ کیا کچھ نہ دیا جاسکتا؟ مگر دنیا کا یہ ساز وسامان جس کے لئے ہم مر‘کھپ رہے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس قدر حقیر وذلیل ہے کہ وہ اپنے محبوب اور مقرب بندوں کو اس سے آلودہ نہیں کرنا چاہتا‘ بعض انبیاء علیہم السلام کو عظیم الشان سلطنت بھی دی گئی‘ مگر ان کے زہد وقناعت اور دنیا سے بے رغبتی وبیزاری میں فرق نہیں‘ ان کے پاس جو کچھ تھا دوسروں کے لئے تھا‘ اپنے نفس کے لئے کچھ نہ تھا۔ الغرض یہ ہے ”فتنہٴ پیٹ“ کا صحیح علاج جو انبیاء کرام علیہم السلام اور بالخصوص سید کائنات ا نے تجویز فرمایا اور اگر انسان ”پیٹ کی شہوت“ کے فتنہ سے بچ نکلے تو انشاء اللہ شہوتِ فرج“ کے فتنہ سے بھی محفوظ رہے گا کہ یہ خرمستی پیٹ بھرے آدمی کو ہی سوجھتی ہے‘ بھوکا آدمی اس کی آرزو کب کرے گا‘ ان ہی دو شہوتوں سے بچنے کا نام اسلام کی اصطلاح میں ”تقوی“ ہے جس پر بڑی بشارتیں دی گئی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح ضعیف مریض کو بقائے حیات کے لئے ہلکی پھلکی معمولی غذا کا مشورہ دیا جاتا ہے اور زبان کے چسکے سے بچنے کی سخت تاکید کی جاتی ہے تاکہ مطلوبہ اعلیٰ صحت نصیب ہو‘ بس یہی حیثیت اسلام کی نظر میں دنیا کی ہے۔
اشاعت ۲۰۰۷ ماہنامہ بینات, جمادی الاولیٰ ۱۴۲۸ھ جون ۲۰۰۷ء, جلد 70, شمارہ 5

    پچھلا مضمون: ملتزم
Flag Counter