Deobandi Books

ماہنامہ البینات کراچی جمادی الاولیٰ ۱۴۳۰ھ بمطابق مئی ۲۰۰۹ء

ہ رسالہ

6 - 10
بگیر راہِ حسین احمد!
بگیر راہِ حسین احمد!

۲۸ ربیع الاول ۱۴۳۰ھ بروز جمعرات بمطابق ۲۶ مارچ ۲۰۰۹ء کو روز نامہ جنگ کے ادارتی صفحے پر ” قلم و کمان“ کے حامل ، مختلف حوالوں سے معروف کالم نگار، جناب حامد میر صاحب کا کالم ” بلاول کا خیال کیجئے “ پڑھا موصوف نے بلاول کے باپ سے زیادہ بلاول کا خیر خواہ بنتے ہوئے مختلف مشوروں سے نوازا ،ہر آنے والے کو مشورے و تجاویز دینا موصوف کا کام ہے ، اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے، موصوف کے مذکورہ کالم میں مختلف باتوں کے درمیان کوئی ربط ڈھونڈنا بھی ضروری نہیں ،کیونکہ وہ مقام صحافت کی اس سیڑھی پر پاوٴں جما چکے ہیں، جہاں اس قسم کے ربط نہیں دیکھے جاتے ، لیکن مجھے اور مجھ جیسے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو ایک بات ،حد درجہ بے ربط اور بے جوڑ معلوم ہوئی ، وہ یہ کہ ” بلاول“ کا خیال کرنے کے لئے آزادیٴ ہند کے عظیم رہنماشیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور مفتی اعظم ہند، مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہما اللہ پر کیچڑ اچھالنے کی ضرورت انہیں کیوں محسوس ہوئی ، اور وہ بھی ایک ایسے جھوٹے قصہ کی بنیاد پر جسے اپنے دور کے بہترین و ماہر ترین مخترع ، مفتری، اور وضّاع نے اپنے مخصوص افکار اور خبثِ باطن کے اس سلسلہ وار زاوئیے سے گھڑا تھا ،جس کی کڑیاں صدر اول کے ابن سباء سے ملتی ہیں ، اس قصے کا اصل موجد مشہور افتراء باز ،پائے کا دروغ سازابو الحسن اصفہانی ہے اگر” میر وقت “جہانگیر تمیمی کی بجائے براہ راست ”اصفہانی“ سے جھوٹی روایت نقل کرتے تو ان کی سند عالی ہوجاتی ،کیونکہ تمیمی یا بٹالوی تو اس قصہٴ کاذبہ کے محض ناقل ہیں ،اصل سرچشمہ اصفہانی صاحب ہیں۔ اگر ” میر وقت“ بلاول اور زرداری کی خیر خواہی و خوشامد سے کچھ وقت بچا کر تصویر کا دوسرا رُخ بھی دیکھ لیتے جو اس جھوٹے قصے کے حوالے سے تاریخ کا حصہ بن چکا ہے تو امید ہے کہ میر صاحب انسانی حیاء کے مارے یہ جھوٹ نقل فرمانے کی جسارت نہ فرماتے، کیونکہ اس جھوٹ کے جراثیم اس دور کے” میروں “ کے علاوہ شاید کہیں بھی قرار پذ پر نہ ہوں ،اس لئے کہ اس موضوع پر اس قدر وضاحتیں ہو چکی ہیں کہ حقیقت کو چھپانے وا لے سارے پردے تارتارہو چکے ہیں، بہر حال ہمارے میر صاحب” بلاول“ کی خاطر جو بے ربط ارشاد فرما چکے ہیں ہم اسے بعینہ نقل کرنے کے بعد موصوف کے سامنے علامہ اقبال کا تیار کردہ ”آئینہ بو لہبی“ پیش کریں گے۔ وہ خود ہی اپنا چہرہ اس میں دیکھ لیں ۔چنانچہ میر صاحب مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:
”تحریک پاکستان میں بھی کچھ مولانا صاحبان نے علامہ اقبال اور قائد اعظم کے خلاف طرح طرح کے فتوے صادر کئے، نوبت یہاں تک آئی کہ علامہ اقبال  کو جمیعت علماء ہند کے رہنما مولانا حسین احمد مدنی کے خلاف اشعار کہنا پڑ گئے، تحریک پاکستان کے ایک نامور مورخ ڈاکٹر محمد جہانگیر تمیمی نے اپنی کتاب ” زوال سے اقبال تک“ میں ایک عجیب قصہ لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ 1937ء کے انتخابات میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا حسین احمد مدنی مسلم لیگ کی حمایت کے لئے راضی تھے، لیکن انہوں نے اس حمایت کے اخراجات کے لئے پچاس ہزار روپے طلب کئے یہ قم اس زمانے میں بہت زیادہ تھی، قائد اعظم یہ مطالبہ پورا نہ کر سکے اور مولانا صاحبان کانگریس کی طرف چلے گئے کیونکہ وہاں سے ان کے مالی تقاضے پورے ہو گئے تھے۔ شکر ہے کہ اس دور میں مولانا شبیر احمد عثمانی ، مولانا اشرف علی تھانوی اورمفتی محمد شفیع جیسے علمائے حق نے دار العلوم دیوبند کی عزت رکھ لی اور بے لوث انداز میں تحریک پاکستان کی حمایت کی، مولانا فضل الرحمٰن سے التجا ہے کہ آج مولانا حسین احمد مدنی کی بجائے علامہ شبیر احمد عثمانی کے نقش قدم پر چلیں“۔
”میر صاحب“کے ان ارشادات کے تناظر میں سر دست مختصراً تین باتوں کی وضاحت کرتے ہیں ، ۱:۔ قائد اور علامہ کے خلاف فتویٰ ۔۲:۔علامہ کے اشعار۔ ۳:۔پچاس ہزاری قصہ کی حقیقت۔
قیام پاکستان اور علماء کا اختلافی نقطہٴ نظر
قیام پاکستان کے حوالے سے حضرت مدنی اور مفتی کفایت اللہ صاحب اوردوسرے کئی حضرات کو تحفظات تھے، انہیں اختلاف تھا یہ ایک واضح حقیقت ہے لیکن اس حقیقت کا دوسرا اور اصلی رخ اس سے زیادہ اہم ہے مگرا سے بیان نہیں کیا جاتاوہ یہ کہ آخر یہ حضرات کیوں مخالف تھے؟ اس مخالفت کے اسباب کیا تھے؟قیام پاکستان کے بعد ان بزرگوں کی رائے کیا تھی۔ ان پہلووں سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف اختلاف اختلاف کا واویلا کرنا اور اسے فتویٰ بازی کہنا تاریخ کی بد ترین خیانت کہلانے کی حقدار ہے ،آئیے سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کی زبانی سنیے کہ ہمارے یہ بزرگ قیام پاکستان کے مخالف کیوں تھے، مخالفت کے اسباب پر غور فرمائیے اور ساتھ ساتھ پاکستان کی حالیہ تصویر پر غور فرماتے جایئے، ۲۶اپریل ۱۹۴۶ء کو دہلی کے اردو پارک میں پانچ لاکھ کے مجمع کے سامنے حضرت شاہ جی نے جو تاریخی خطاب فرمایا تھا اس کے صرف دو اقتباس(جو مخالفین کے موقف کا خلاصہ ہیں) ملاحظہ ہوں:
”اس وقت آئینی اور غیر آئینی دنیا میں یہ بحث چل رہی ہے کہ آیا ہندوستان میں ہند و اکثریت کو مسلم اقلیت سے جدا کر کے برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے؟ قطع نظر اس سے کہ اس کا انجام کیا ہوگا، مجھے پاکستان بن جانے کا اتنا ہی یقین ہے ،جتنا اس بات پر کہ صبح کو سورج مشرق سے طلوع ہوگا، لیکن یہ وہ پاکستان نہیں بنے گا جو دس کروڑ مسلمانانِ ہند کے ذہنوں میں موجود ہے اور جس کے لئے آپ بڑے خلوص سے کوشان ہیں ، ان مخلص نوجوانوں کو کیا معلوم کہ کل ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، بات جھگڑے کی نہیں، سمجھنے اور سمجھانے کی ہے، لیکن تحریک کی قیادت کرنے والوں کے قول و فعل میں بلا کا تضاد ادر بنیادی فرق ہے، اگر آج مجھے کوئی اس بات کا یقین دلادے کہ کل کو ہندوستان کے کسی قصبہ کی گلی میں یا کسی شہر کے کسی کوچہ میں حکومتِ الٰہیہ کا قیام اور شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہو نے والا ہے، تو رب کعبہ کی قسم! میں آج ہی اپنا سب کچھ چھوڑ کر آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوں۔
لیکن یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ جو لوگ اپنی اڑھائی من کی لاش اور چھ فٹ کے قد پر اسلامی قوانین نافذ نہیں کرسکتے ، جن کا اُٹھنا بیٹھنا جن کا سونا، جن کا جاگنا ، جن کی وضع قطع ، جن کارہن سہن ،بول چال ، زبان و تہذیب ،کھانا پینا ، لباس وغیرہ غرض کہ کوئی چیز بھی اسلام کے مطابق نہ ہو ، وہ دس کروڑانسانی آبادی کے ایک قطعہ زمین پر اسلامی قوانین کس طرح نافذ کر سکتے ہیں؟ یہ ایک فریب ہے اور میں یہ فریب کھانے کے لئے تیار نہیں۔ہندو اپنی مکاری اور عیاری سے پاکستان کو ہمیشہ تنگ کرتا رہے گا۔ اسے کمزور بنانے کی ہر ممکن کو شش کرے گا۔ اس تقسیم کی بدولت آپ کے دریاوٴں کا پانی روک لے گا۔ آپ کی معیشت تباہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔آپ کی یہ حالت ہوگی کہ بوقتِ ضرورت مشرقی پاکستان، مغربی پاکستان کی اور مغربی پاکستان ،مشرقی پاکستان کی کوئی مدد کرنے سے قاصر ہو گا، اندرونی طور پر پاکستان میں چند خاندانوں کی حکومت ہو گی اور یہ خاندان زمینداروں ، صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کے خاندان ہوں گے، امیر دن بدن امیر تر ہو تاچلا جائے گااور غریب غریب تر۔“
(روزنامہ الجمعیة دہلی ۲۸ اپریل۱۹۴۶ء بحوالہ کردار قائد اعظم ص:۱۵۶،۱۵۷، بینات رجب ۱۴۰۷ھ)
”تم الگ الگ رہ کر بھی باہم شیر و شکر رہ سکتے تھے، مگر تم نے اپنے تنازعہ کا انصاف فرنگی سے مانگا ہے وہ تم دونوں کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والا فساد ضرور پیدا کرکے جائے گا، جس سے تم دونوں قیامت تک چین سے نہ بیٹھ سکو گے اور آئندہ بھی تمہارا آپس کا کوئی تنازعہ باہمی بات چیت سے کبھی طے نہ ہو سکے گا۔آج انگریز کے فیصلہ سے تم تلواروں اور لاٹھیوں سے لڑوگے تو آنے والے کل کو توپ اور بندوق سے لڑو گے، تمہاری اس نادانی اور من مانی سے اس بر صغیر میں انسا نیت کی جوتباہی ہو گی، عورت کی جو بے حرمتی ہو گی،اخلاق و شرافت کی تمام قدریں جس طرح پامال ہو ں گی، تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے ۔لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ ہاں (موجودہ پاکستان میں)وحشت و درندگی کا دورہ دورہ ہوگا، بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہو جائے گا، انسانیت اور شرافت کا گلا گھونٹ دیا جائے گانہ کسی کی عزت کی حفاظت ہو گی نہ مال، نہ جان نہ ایمان اور اس سب کا ذمہ دار کوں ہوگا؟ تم دونو ں۔“
(روزنامہ الجمعیة دہلی ۲۸ اپریل ۱۹۴۶ء(کردار قائد اعظم ص: ۳۸۸ ،بینات رجب،۱۴۰۷ھ)
”یہ علماء ہند کا وہ اختلاف اور اس کی بنیاد جس کو میر صاحب” فتویٰ بازی “کہہ رہے ہیں ،حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمة اللہ شاہ جی کے مذکورہ اقتباسوں پر اضافہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: افسوس ہے کہ لیگ کے جذباتی کارکنوں نے ان بزرگوں پر پاکستان کے مخالف “ کانگریس کے ہمنوا ہندوٴں کے ایجنٹ اور نہ جانے کیا کیا بھبتیاں اڑائیں ،لیکن یہ حضرات جو دردو کرب ملت اسلامیہ کے لئے سینہ میں رکھتے تھے اورمستقبل کے ہولناک اور قیامت خیز منظر سے ان کے دل پر جو قیامت سے پہلے قیامت گزررہی تھی اس کی طرف کسی دانشمند کو التفات نہ ہوا، اور لیگ کے ان بدنام کنندگان میں ایک بھی ایسا نہ نکلا جو ان بدنام کنندگان سے یہ کہہ سکتا۔الیس منکم رجل رشید۔یہ حضرات پاکستان کے مخالف تھے؟ بلا شبہ مخالف تھے لیکن کیوں مخالف تھے؟اس لئے کہ پاکستان کے جلو میں ہندوستان کی امت اسلامیہ پر جو تباہی و بربادی نازل ہو نے والی تھی اس کی وجہ سے مخالف تھے ،لیکن جب پاکستان بن گیا تو ان سے بڑھ کر پاکستان کا کوئی وفادار نہیں تھا۔…۔“ (بینات رجب ۱۴۰۷ھ)
ٍٍٍ اگر میر صاحب یاان جیسے دیگرحضرات بنظر انصاف دیکھیں توعلماء ِ ہند کی رائے کو قیام پاکستان سے پہلے نہ یہ صرف کہ اختلاف رائے قرار دے کر اختلاف کی مکمل گنجائش تھی جیسے حضرت تھانوی حضرت عثمانی اور حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہم اللہ نے اختلاف فرمایا تھا۔
لیکن اگر پاکستان کی موجودہ صورت حال کوان مخالفین کے موٴقف کے آئینہ میں دیکھا جائے تو ان کے موقف کی تصدیق ہو تی ہے اور اگر ہمارا نفس نہ مان سکے تو فطری حیا کے تحت کچھ دیر کے لیے ہمیں ”شرم “ ضرور آنی چاہیئے۔الغرض قیام پاکستان سے قبل ان بزرگوں کے اختلاف رائے میں یہ بھیانک صورت حال مضمر تھی جسے ان صاحب کشف بزرگوں کی چشم بصیرت مشاہدہ کررہی تھی جہاں تک قیام پاکستان کے بعد ان بزرگوں کا موٴقف ہے وہ بھی دنیا جانتی ہے اگرارباب لیگ کے دامن ظرف میں جگہ ہو تی تو پاکستان کا مطلب کیا ” لا الہ الا الله“ کے ساتھ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ کا وہ جملہ بھی لکھا کرتے جو پاکستان کا” خیال “رکھنے کے لئے انہوں نے معمول کی دیانت ،سنجیدگی اور وقار کے ساتھ ارشاد فرمایا تھاکہ:” مسجد جب تک نہ بنے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن جب وہ بن گئی ہے تو مسجد ہے“ ( روزنامہ الجمیعة دہلی ،شیخ الاسلام نمبر۔ص:۷۱)
حضرت مدنی رحمہ اللہ کے اس ارشاد سے جہاں قیام پاکستان کے بعد ان کا نقطہ نظر واضح ہو رہا ہے وہاں دیانت ،صداقت ، شرافت اور اخلاقی اقدار پر مبنی اختلاف کا طریقہ کار بھی نمایاں ہو رہا ہے اگر ہمارے ” میر وں“ کو ” بلاولوں“ کی خوشامد سے فرصت ملے تو حضرت مدنی کی سیرت کا غیر جانبدارانہ مطالعہ ضرور کرنا چاہئے تاکہ کم ازکم اتناتو معلوم ہو سکے کہ حضرت مدنی نے میرے اور ،” میر“ کے ”ویروں“کے موجودہ پاکستان کے وجود سے اختلاف کیا تھا، حضرت تھانوی اور حضرت عثمانی کے تصوراتی پاکستان سے ہر گز اختلاف نہیں کیا تھا،” میر بادشاہ“ کی مرضی ہے حضرت مدنی کے اس اختلاف کو قیام پاکستان کے خلاف فتویٰ سے تعبیر کریں یا حوصلہ کرکے ” کشف “ مان لیں ورنہ موجودہ پاکستان کے اچھے بُرے صحیح غلط کا معیار قائم کرنے کے لئے” میر“ صاحب جیسے دانشوروں کی موجودگی بھی حضرت مدنی کی کرامتوں کا مظہر ہے ، میں پاکستان اور میر صاحب دونوں کے وجود کو ضروری سمجھتا ہوں ۔
حضرت مدنی اور علامہ اقبال کے اشعار
شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمہ اللہ کے بارے میں ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کے جن اشعار کی طرف ” میر وقت“ نے اشارہ فرمایاہے وہ یہ ہیں:
عجم ہنوز نہ داند زموز دیں ورنہ

زدیوبند حسین احمد این چہ ابو العجمی است
سرور د، بر سر منبر کہ ملت از وطن است

چہ بے خبرز مقام محمد عربی است
بہ مصطفیٰ بر ساں خویش را کہ دین ہمہ اوست

اگر بہ او نہ رسیدی تمام ابو لہبی است
ان اشعار کا مختصر شان ورود یہ ہے کہ ۸ جنوری۱۹۳۸ء کو حضرت مدنی رحمة اللہ نے پل بنگش صدر بازار دلی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران بطور حکایت یہ فرمایا کہ موجودہ زمانے میں قو میں او طان سے بنتی ہیں نسل یا مذہب سے نہیں بنتی۔ حضرت کی اس تقریر کا پورا مطلب و متن دلی کے دو ممتاز اخبارات” تیج“ اور” انصاری “میں چھپا ۔بات پوری تھی کوئی اشکال کی بات نہیں تھی، چند روز بعد حضرت کی اسی تقریر کو لاہور سے نکلنے والے دو روزناموں ” زمنیدار اور” انقلاب “ جو آپ کے زبر دست سیاسی حریفوں کے ایسے نمائندہ تھے جواپنوں کی حمایت اور حریفوں کی مخالفت میں سب کچھ کہنا جائز سمجھتے تھے بلکہ ان کو فرض منصبی تھا،ان دو اخباروں نے حضرت مدنی کے بارے میں یہ جھوٹ لکھا کہ انہوں نے مسلمانانِ ہند کو اسلامی ملت کی بجائے وطنی قومیت اپنانے کا مشورہ دیا ہے، حالانکہ حضرت کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظت وطن ( مدنی ریاست کی حفاظت ) کے لئے مدینہ کے رہنے والے یہودیوں اور مسلمانوں کو معاہدہ کے تحت متحد کیا تھا اسی طرح آزادی ہند کے لئے بھی اس قسم کا متحدہ محاذ بن سکتا ہے۔اس تقریرکے مندرجات حضرت مدنی کے معاندین کی تراش و خراش کے بعد جب علامہ اقبال مرحوم تک پہنچے تو انہوں نے قومیت و ملت کا لغوی و اصطلاحی امتیاز اور اخبارو انشاء کا فرق ملحوظ رکھے بغیربلا تحقیق و تصدیق جذباتی انداز میں مذکورہ تین اشعار حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ کے بارے میں کہہ ڈالے۔اگر حضرت مدنی رحمة اللہ نے” اسلامیت“ ترک کرکے ” وطنی قومیت“ کا مشورہ دیا ہو تا تو علامہ کے لئے اس طرح کے اشعار کہنا نہ صرف یہ کہ جائز تھا ،بلکہ ضروری اور حمیت دینی کا تقاضا بھی تھا ،لیکن حقیقت اس کے خلاف تھی اس لئے علامہ کا یہ فتویٰ ”گربہ اونہ رسیدی ہمہ ابو لہبی است “حضرت مدنی پر کسی طور پر چسپاں نہ ہو سکا ،البتہ ” ملت از وطن“ کا نظریہ ،شعوری و غیر شعوری طور پر اپنانے کی وجہ سے دیگر کئی چھوٹے بڑے حضرات اس قابل مذمت ” بو لہبی“ کا شکار ہو گئے تھے۔
حضرت قائد اعظم مرحوم نے قیام پاکستان سے تین روز قبل اپنے خطاب میں دینی شناختوں کی بجائے” وطنی شناخت “ کو مقدم رکھنے کی وصیت فرمائی تھی(شاہراہ پاکستان ،ص: ۹۴۲، بحوالہ بینات)اور خود علامہ بھی اپنے کلام میں” وطنی قومیت “ کاخوب پرچار فرما چکے ہیں، مثلا ترانہ، ہند ، کا یہ شعرتو بہت ہی مشہور ہے ۔ #
مذہب نہیں سکھا تا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا
اسی نظریہ کا تسلسل ہے کہ پاکستان کے پہلے انتظامی ڈھانچے میں عیسائی ،ہندو ، قادیانی شامل تھے، فوج کا سربراہ انگریز تھا، عدلیہ کا سربراہ کارنیلس عیسائی تھا، پہلا وزیر خارجہ ظفر اللہ قادیانی تھا، کیا یہ اشخاص اسلامی قومیت کی بناء پر ان کلیدی عہدوں پر براجمان ہوئے تھے، یا وطنی قومیت کی بناء پر ؟
اگر ” وطنی قومیت “ واقعةً ”لاالہ الا الله “کی نفی ہے تو پھر” سب سے پہلے “پاکستان کا نعرہ لگانے والے ، میر صاحب کی عدالت میں موجود ہیں، ان پر دفعہٴ ارتداد لا گو کرتے ہوئے سزائے موت ہونی چاہئے۔ اسی طرح پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈمیں” قومیت “ کے خانے میں ”پاکستانی“ لکھنے اور ” پنجابی ، سندھی ،بلوچی اور سرحدی کی شناختی تفریق کو نظریہ پاکستان کی رو سے قانونی جرم قرار دینا چاہیئے۔
حیرت کا مقام ہے کہ مصور پاکستان حضرت اقبال” وطنی قومیت“ کے جس نظریہ پر ” بو لہبی“ کا فتویٰ صادر فرما چکے ہیں۔حضرت قائد اعظم اور حضرت علامہ سے لیکر مجھ تک اور میر صاحب تک سب اس فتویٰ کی ”زد “ میں کیوں نظر آرہے ہیں؟ جو بھی اس آئینہ میں منہ دیکھے اس کی ” جبین پاک پر“بو لہبی “ لکھا ہو اکیوں آرہا ہے ہر پاکستانی کو اس پر سوچنا چاہیئے اور اپنی اصلاح کرنی چاہیئے میں سوچ و بچار کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی تک پہنچا ہوں جس میں ارشاد ہے کہ جو مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی طرف کلمہٴ کفر کی نسبت کرے اگر منسوب الیہ (جس کی طرف نسبت کی گئی ہو) وہ اس کا مصداق ہو تو ٹھیک ہے ورنہ وہ کلمہ خود کہنے والے کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اسی طرح ایک اورحدیث کا مفہوم بھی بتاتا ہے کہ:
تم اپنے بھائی کی مصیبت اور ابتلاء میں طعنہ زن مت بنوورنہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے بھائی کو برأت و عافیت دیدے اور تو خود اس مصیبت و ابتلاء میں پھنس جائے۔
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہو تاہے کہ حضرت مدنی  پر دینی شناخت کی بجائے ”وطنی قومیت “کا مشورہ دینے کاالزام،خدا اور خلق خدا کے ہاں محض جھوٹ بہتان اور بے بنیاد الزام تھا، اس لئے وہ تو علامہ کے شعر کا مصداق نہیں بن سکے، البتہ ہم خود ہی ” وطنی قومیت“کا بلکہ صوبائی اور لسانی قومیتوں کا شکار ہوکر علامہ کے اشعار کا مصداق بنتے جارہے ہیں حتیٰ کہ اس میں اول تا ہنوز کسی کا استثناء کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے، البتہ حضرت جناح اور حضرت علامہ کے بارے میں اتنا کہنا ضروری ہے کہ ان کو ایک تو اس لئے موضوع بحث نہیں بنانا چاہئے کہ وہ دنیا سے پردہ فرما کر ا پنے خالق کے ہاں جا چکے ہیں یہی نبوی تعلیم بھی ہے۔( بخاری شریف:۱/ ۱۸۶) اور ہمارے بزرگوں کا طریقہ بھی ہے۔ ہمارے میر صاحب کے معتوب اور کروڑوں فرزندان توحید کے محبوب حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے حضرت قائد اعظم کے بارے میں بطور خاص اپنے معتقدین کویہی تاکید فرمائی تھی ۔قصہ یوں نقل کیا جاتا ہے کہ تقسیم ہند کے بعدبمبئی کا تمام جماعتوں کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا جلسہ کے مقررین میں جو بھی اٹھتا وہ قائد اعظم کے بارے میں ناشائستہ اظہار خیال کرتا ، حضرت مدنی بھی شریک جلسہ تھے جب آپ کو دعوت خطاب دی گئی تو آپ نے فرمایا:
” یہاں تمام مقررین نے زور تقریر جناح صاحب کی مذمت پر صرف کیا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ جو شخص ہم سے جدا ہو چکا ہے اور اب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، اس کی برائی سے کیا مقصد ہے؟ اور اس کا کیا نفع ہو گا؟ ۔“ (بینات رجب ۱۴۰۷ھ) رہے حضرت اقبال رحمہ اللہ تو وہ بھی ہم سے جدا ہو چکے ہیں اور اپنے مذکورہ اشعار اور اس کے اثرات پر بھی ملامت یا بحث سے بالا تر ہیں کیونکہ اس مباحثہ کے شروع ہو نے کے بعد تین ماہ کے اندر اندرعلامہ نے اپنی وفات سے تین ہفتہ قبل یعنی ۲۸ مارچ ۱۹۳۸ ء روز نامہ احسان لاہور میں مندرجہ ذیل بیان جاری فرما دیا تھا:
” مولانا اس بات سے صاف انکارکرتے ہیں کہ انہوں نے مسلمانان ہند کو جدید نظریہٴ قومیت کے اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ،لہٰذا میں اس بات کا اعلان ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھ کو مولانا کے اس اعتراف کے بعد کسی قسم کا کوئی حق، ان پر اعتراض کرنے کا نہیں رہتا، میں مولانا کے جوش عقیدت کی قدر کرتا ہوں، میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ مولاناکی حمیت دینی کے احترام میں میں ان کے کسی عقیدت مند سے پیچھے نہیں ہوں“۔
حضرت علامہ کے ان اشعار سے رجوع کے بعد ان کی اشاعت اور حوالے کی قطعا گنجائش نہیں ہو نی چاہئیے تھی، مگر یہ سب کچھ کیوں ہوا اور کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی تکوینی وجہ وہی ہو سکتی ہے جس کا بیان اوپر گزرا، دوسری ظاہری وجہ یہی ہے کہ انگریز کے بوٹ پالش کرنے والوں کی ذریت اپنی روحانی تسکین کے لئے انگریز دشمن علماء دین کے خلاف بد گوئی ، ہذیاں اور دشنام طرازی کا پدری ورثہ آگے منتقل کرنے کی خواہاں ہے، جس کی حیثیت ” غوغائے سگاں“ سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ، اگر ہمارے معاصر ” میروں “ اور ان کے پیش روں کے نزدیک گڑھے مردے اکھیڑناجائز ہے یا وہ اس قسم کے متنازع بلکہ مرجوع اشعار کو صرف تاریخی وادبی ہونے کی بنیاد پر آگے منتقل کررہے ہوں تو ان کی دیانت سے استدعا ہے کہ حضرت علامہ کی وہ مسدس بھی عام کریں، جو انہوں نے گاندھی جی کی منقبت میں ارشاد فرمائی تھی اور اس نظم کو بھی بعینہ نقل فرمادیں جو انہوں نے حضرت قائد اعظم کے بارے میں ارشاد فرمائی تھی۔
”وقتی میر“ کے پدری ورثہ میں اگر ۹نومبر ۱۹۲۱ء کا روزنامہ زمیندار لاہور کی کاپی اورعبدالمجید سالک کی” ذکر اقبال“ محفوظ نہ ہو تو ہمارا تعاون قبول فرمائیے۔ حضرت قائد اعظم کے بارے میں فرماتے ہیں:
لندن کے چرخ نادر ہ فن سے پہاڑ پر

اُترے مسیح بن کے محمد علی جناح
نکلے گی تن سے تو کہ رہے گی بتا ہمیں

اے جان بر لب آمدہ اب تیری کیا صلاح
دل سے خیال دشت و بیاباں نکال دے

مجنوں کے واسطے ہے یہی جادہِ فلاح
آغا امام اور محمد علی ہے باب

اس دین میں ہے ترکِ سوادِحرم مباح
بشریٰ لکم کہ منتظرِ مارسیدہ ہست

یعنی حجاب غیبتِ کبریٰ دریدہ ہست
(روزنا مہ زمیندار ، مورخہ ۹/ نومبر ۱۹۲۱ء)
گاندھی سے اک روز یہ کہتے تھے مالوی

کمزور کی کمندہے دنیا میں نارسا
نازک یہ سلطنت صفت برگ گل نہیں

لے جائے گلستان سے اُڑا کر جسے صبا
گاڑھا ادھرہے زیب بدن اور ادھر زرہ

صرصر کی رہ گزار میں کیا عرض تو تیا
پس کر ملے گا گرد رہ روز گار میں

دانہ جو آسیا سے ہوا قوت آزما
بولا بات سن کے کمال وقار سے

وہ مرد پختہ کار و حق اندیش و باصفا
خارا حریف سعیٴ ضعیفاں نمی شود

صد کوچہ ایست دربن دنداں خلا ل را
(ذکر اقبال ،ص:۱۱۲)
اگر میرصاحب کے بقول محترم چیف جسٹس جناب افتخار چوہدری صاحب کے بحال ہونے سے ”مادر وطن“ میں عدل و انصاف بحال ہو چکا ہے یا انصاف کی فضاء بن چکی ہے تو پھر حضرت علامہ کے مذکورہ تین اشعار کے جواب میں حضرت مدنی کے ایک متوسل سید عزیز احمد قاسمی کی نظم بھی شائع کردیں یا صرف یہ شعر نقل کردیں :
خموش شاعر گستاخ قدر خویش بشناس
زحد خویش گزشتن کما ل بے ادبی است
یا اقبال سہیل مرحوم کی طویل جوابی نظم کے صرف مندرجہ ذیل اشعارہی نقل فرمادیں ،کیونکہ قانون عدل بحال ہو جانے کے بعد ایک فریق کی بات سن کر دوسرے فریق کے جواب دعویٰ کے بغیر عادلانہ فیصلہ ناممکن ہے، اقبال سہیل کے اشعار یہ ہیں:
درست گفت محدث کہ قوم از وطن است

کہ مستفاد از فرمودہٴ خدا و نبی است
زبان طعن کشودی مگر نہ دانستی

کہ فرق ملت و قوم از لطائف ادبی است
تفاوتے است فراواں میان ملت و قوم

یکے از کیش دیگر کشور یست یا نسبی است
بگیر براہ حسین احمد را گر خدا خواہی

کہ نائب است نبی را وہم از آل نبی است
مگر میرا خیال و نظریہ یہ ہے کہ حضرت مدنی ،حضرت قائد اعظم ، حضرت اقبال اور اس وقت کے دو طرفہ رائے کے تمام حاملین اس دنیا سے جا چکے ہیں ،ان کے بارے میں ہم سب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد پر عمل پیرا ہو نا چاہیے۔ لا تسبوا الاموات فانہم قد افضوا الی ما قدموا …یعنی تم رفتگان کوبرابھلا مت کہو ان پر سب و شتم مت کرو اس لئے وہ آگے پہنچ کر اپنا بھیجا ہوا پاچکے ہیں۔
دوسرے یہ کہ حضرت علامہ کے مذکورہ اشعاراسی طرحِ کالعدم اورناقابل استدلال ہیں جس طرح حضرت قائد اعظم اور گاندھی جی کے بارے میں کہے گئے اشعار کالعدم اور ناقابل استدلال ہیں ،اسی طرح علامہ کے اشعار کی جوابی نظم بھی اپنا موقع و محل اورباعث کھو چکی ہیں، اس لئے ان کی بھی قطعاً ضرورت نہیں ہے، تاکہ وحدت اسلامی اور وحدت وطنی میں کسی قسم کا انتشار و خلفشار پیدا نہ ہو، اور اپنی نفسانیت کی تسکین اور شیطانیت کی ترویج کے لئے اپنی کفن پوش مقدس ہستیوں کی لاشین نوچنے کی نوبت نہ آئے، بالخصوص علماء کے گوشت کے بارے میں تو مشہور ہے ” لحوم العلماء مسمومة “(علماء کا گوشت زہر الود ہو تے ہیں) پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جس جس نے علماء بالخصوص شیخ الاسلام سیدحسین احمد مدنی کے گوشت کو حلال سمجھا آخروی موٴخذہ سے قبل دنیا میں بھی اس نے اس زہر کا اثر ضرور محسوس کیا ہے، اہل کشف اولیاء اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجو د ابتری حضرت مدنی کی اسی گستاخی کا نتیجہ ہے جسے آپ نے مخالفین نے شروع تا حال، حلال سمجھ رکھا ہے۔
پچاس ہزاری قصہ کی حقیقت
ذکر کردہ اس قصہ کی حقیقت دیکھئے جس نے میر صاحب کو تعجب میں مبتلا کیا :
۱:۔ مسلم لیگ کی حمایت کے لئے رقم کا مطالبہ، اصفہانی ، بٹالوی او رتمیمی جیسے واسطوں کے علاوہ کسی متداول ،معتبر روئیداد میں مذکور نہیں ہے، بلکہ اصفہانی صاحب نے اپنی فنی مہارت سے رقم کے مطالبہ کی نامناسب تعبیر کرکے تشہیر شروع کردی ہے ، اگر بالفرض مطالبہ کیا بھی ہوتو غور کا مقام ہے کہ وہ کس مقصد کے لئے تھا؟اگر یہ کہا جائے کہ ذاتی مفادات کے لئے تھا جیسا کہ معاندین نے تاثردینے کی کوشش کی ہے تو تاریخ میں اس سے بڑا جھوٹ نہیں ہو سکتا کیونکہ جس انسان نے ہندوستان کے سب سے بڑے اعزاز کو جوتے کی نوک سے ٹھکرادیاہو اور برسہا برس گنبد خضراء میں درس حدیث دے کر شیخ العرب و العجم کہلا یا ہو اور ساری زندگی سامراج سے پنجہ آزمائی میں گزاری ہو اس کے بارے میں انگریز پرستوں کی گواہی ماننا اوراس کی بنیاد پر حضرت کو متہم کرنا تاریخ کا سب سے بڑا بہتان ہے البتہ فرض کے درجے میں یہ کہنا جوخود اس عبارت میں بھی موجود ہے کہ انتخابی مہم کے اخراجات کے لئے مطالبہ تھا، تو اس میں کیا مضائقہ ہے کیونکہ انتخاب کون لڑرہا تھا؟ ظاہرہے کہ اس میں جمعیت علماء ہند کا کوئی رکن بھی حصہ نہیں لے رہا تھا، سب کے سب مسلم لیگ کے نامزد کردہ امیدوار تھے،انصاف کی بات یہ ہے کہ جو لوگ دار العلوم دیوبند سے بوضع مشاہرہ رخصت پر ہوں اور ان کا کوئی امید وار بھی میدان انتخاب میں نہ ہو، آپ ان کوذاتی خرچ پراپنی حمایت کے لئے مجبور کرنا کیوں ضروری سمجھتے ہیں؟ اگران بزرگوں نے مسلم لیگ کی انتخابی مہم کے لئے رقم کا مطالبہ کیا بھی ہو تووہ ” میر صاحب“ کے محنتانہ کی طرح ہر گز نہیں تھا؟ بے حساب آکر ہضم نہیں ہو اکرتا تھا بلکہ اس کی حقیقت مسلم لیگ کے مالیاتی منتظم چوہدری خلیق الزمان خود بیان فرماتے ہیں کہ:
”میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب کبھی میں نے ان کو (مولانا حسین احمد مدنی کو) انتخابات کے دورے وغیرہ کے مصارف کے متعلق روپیہ دیا تو اس کے ایک ایک پیسے کا انہوں نے مجھے حساب دیا اور بقیہ رقم مجھے واپس کردی ۔“ (شاہراہ پاکستان،ص:۶۳۴)
دوسری طرف مفتی ہند مفتی کفایت اللہ صاحب کے زہد و قناعت کا عالم یہ تھا کہ فقر و فاقہ کے باجود نہرو کی طرف سے مالی پیش کش کو نہایت حقارت کے ساتھ ٹھکرادیا تھا یہ پیش کش پچاس ہزار نہیں بلکہ لاکھوں میں تھی یہ وہ زمانہ تھا جب ان اساطین علم کی تنخواہیں دسیوں بیسوں میں ہوا کرتی تھی، کیا ” میر صاحب“ اس قسم کی آزمائش میں ایسے استغناء کی مثال لیگی تاریخ میں پیش کرسکتے ہیں؟
۲:۔ یہ کہنا کہ اس وقت مسلم لیگ کے پاس کچھ بھی نہیں تھایہ بھی خلاف واقعہ ہے ،کیونکہ مسٹر جناح اور ان کے منہ بولے بھتیجے راجہ محمود آباد ذاتی طور پر اتنے متمول تھے کہ وہ مسلم لیگ کی خاطر جانی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنی جیپ سے بھی مطلوبہ رقم دے سکتے تھے، اور قائد اعظم کی ایک آواز پر محمود آباد کے خزانے کے منہ کھل گئے تھے ،صر ف اکتوبر ۱۹۳۷ء میں مسلم لیگ کے ایک جلسے کے انعقاد پر راجہ صاحب محمود آباد نے تیس لاکھ روپے خرچ کیے تھے، اس کے بعد ۴۷ء تک جو خرچ ہو تا رہا وہ الگ ہے چنانچہ ڈاکٹر سید نظیر حسین زیدی کی زبانی سنیئے
”مسلم لیگ کے لئے قائد اعظم کی آواز پر محمود آباد کے خزانے کے دروازے کھل گئے تھے میں یہ بات انتہائی ذمہ داری کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ اکتوبر ۱۹۳۷ء میں مسلم لیگ کے ایک جلسہ کے انعقاد پر راجہ صاحب محمود آباد کے تیس لاکھ روپے خرچ ہو ئے تھے اور اس کے بعد ۴۷ء تک جو کچھ خرچ ہو تا رہا وہ الگ ہے۔“
(مجلہ علم وآگاہی قائد اعظم نمبر گورنمنٹ نیشنل کالج کراچی،ص:۳۳۰،۳۰۱)
اسی طرح پروفیسر اظہر الحق حقی تحریر کرتے ہیں:
”راجا صاحب نے اجلاس لکھنو کے تمام اخراجات اپنے ذمہ لئے جب سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تو یہ طے کرایا تھا کہ جو کچھ بھی پاس ہے وہ قوم کا ہوگا۔“ (ایضا ص:۳۶۰، ۳۵۹)
۱۹۳۷ء کی مسلم لیگ کی مفلسی پر مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ پر شروع دن سے تا حال سرمایہ داروں، جاگیر داروں ، نوابوں، راجاوٴں ،سروں ، خان بہادروں اور بڑے بڑے زمینداروں کا قبضہ چلا آرہا ہے کیا وہ سب کے سب خود غرض اورمفاد پرست تھے کہ مسلم لیگ کے لئے کچھ بھی خرچ نہ کیا کرتے تھے؟جس جماعتی ریلے میں اتنے بڑے بڑے سرمایہ داراور جاگیردار قارونی خزانوں کے ساتھ بہہ رہے ہوں اس جماعت کے فنڈ میں کچھ بھی نہ ہو یہ تاریخ کے آسمان پر تھوکنے کے علاوہ قائد سمیت تمام رہنماوٴں کی توہین بھی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ کے پاس لاکھوں کا فنڈ صرف ایک ایک جلسے میں جمع ہو کرتا تھا اور مخلص روٴسا خرچ بھی کیا کرتے تھے، ملاحظہ ہو۔ سر عبداللہ ہارون کی وفات پر خود قائد کا بیان ہے:
”سر عبد اللہ ہارون مسلم لیگ کے سب سے زبر دست ستونوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں نہ صرف سندھ کے مسلمانوں کی بے مثال خدمت کی بلکہ پورے بر صغیر کے مسلمانوں کے کام آئے انہوں نے مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے ممبر کی حیثیت سے بڑی اہم اور قابل قدر خدمات انجام دیں انہوں نے مہارت کے ساتھ تاجرانہ نقطہٴ نظر سے مجلس عاملہ کے تمام کاموں میں دل کھول کر امداد دی۔“(مجلہ علم و آگاہی قائد اعظم نمبر ۳۳۰)
ابو سعید انور فرماتے ہیں:
”اپریل ۱۹۳۸ء بمقام کلکتہ آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس خاص ہوا تھا۔ قاعدہ تھا کہ اجلاس کونسل کے بعد آخر میں اجلاس عام بھی منعقد کیا جاتا۔ لاکھوں کا اجتماع تھا ،رات کا وقت تھا،قائد اعظم کی تشریف آوری میں معمول کے خلاف دیر ہو رہی تھی منتظمین نے مولانا شوکت علی کی صدارت میں اجلاس عام شروع کردیا۔ تقریریں ہو نے لگی ایک موقع پر مولاناشوکت علی نے مسلم لیگ کے لئے چندے کی اپیل کردی تقریروں کے دوران ہی لاکھوں کے مجمع میں چندہ جمع ہو نا شروع ہو گیا۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ قائد اعظم جلسہ گاہ میں پہنچے جلسہ میں غیر معمولی ہلچل سے بھانپ گئے کہ چندہ جمع ہو رہا ہے،سیدھے مائیک پر پہنچے اور پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ مولانا شوکت علی نے جواب دیا کہ فنڈ ز جمع ہورہے ہیں آپ نے فوراً چندہ جمع کرنابند کرنے کا حکم دیاپھر نہایت جچے تلے الفاظ میں مختصر تقریر کی،”مجھے معلوم ہے کہ ہمیں فنڈ کی سخت ضرورت ہے اس کے بغیر ہم اتنی بڑی جنگ نہیں جیت سکتے، مگر یہ معاملہ بہت نازک ہے ماضی میں بہت سی مسلمان جماعتیں اسی باعث بدنام ہو ئیں ۔چندہ کا حساب نہ رکھ سکیں میں مناسب وقت پر قوم سے اپیل کروں گا اور یہ چندہ بالعموم براہ راست کسی بینک میں جمع ہو گا۔ایک ایک پائی کا قوم کے سامنے حساب پیش کیا جائے گا“۔اور پھر ہمیں معلوم ہے کہ قائد اعظم کی اپیل پر ایک روپے سے لاکھوں روپے تک مسلم لیگ فنڈ میں دیئے اور خود قائد اعظم نے لاکھوں کے منی آڈرز پر اپنے دستخطوں سے چندہ وصول کیا ۔جن میں ایک روپیہ بھیجنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی اور اکثر براہ راست بنک میں بھی بھیجتے رہے۔ جب مسلم لیگ انڈیا اور پاکستان الگ الگ دو حصوں میں تقسیم ہو ئے تو بھی یہ فنڈز تقسیم کئے گئے۔اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر محمد اسماعیل (مدراس) کی تحویل میں بھارتی مسلم لیگ کا حصہ دیا گیا۔ ان میں مسلم لیگ کے ریلیف فنڈز بھی شامل تھا۔پاکستانی فنڈ ز ابھی تک منجمد پڑے ہیں ۔“
(روز نامہ نوائے وقت لاہور۔۲۵ دسمبر ۱۹۷۷ء قائد اعظم ایڈیشن)
ان تاریخی شواہد کے بعد یہ فیصلہ ” حامد میر “ ہی فرمائیں کہ قائد اعظم یا اصفہانی و تمیمی میں سے کون غلط ہو سکتاہے؟ میری رائے تویہ ہے کہ اصفہانی صاحب کو اس غلط بیانی کا ذمہ دار قرار دینا زیادہ آسان ہے کہ مسلم لیگ کے پاس کچھ نہیں تھاکیونکہ یہ بات اگر قائد نے کہی ہو تی تو کسی اور معتبر ذریعہ سے بھی منقول ہو تی ، مگر ایسا نہیں ہے ،یہ بہت بُری بات ہو گی کہ ” میر “ اور ان کے روحانی پیشوا، قائد کے سرایسی بات تھونپ دیں جو ثابت نہ ہو سکے ، اگر ثابت ہو جائے تو اس سے قائد کی توہین لازم آئے۔
۳:۔ مذکورہ قصہ میں آخری اور آخری حد کاجھوٹ بلکہ بہتان عظیم کہ قائد اعظم رقم کا مطالبہ پورا نہ کر سکے اور مولانا صاحبان کانگریس کی طرف چلے گئے کیونکہ وہاں سے ان کے مالی تقاضے پورے ہوگئے تھے۔اگر اصفہانی سے لیکر ” میر “ صاحب تک ہمارے ان کرم فرماوٴں کا قرآ ن کی آیت” ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید“ پر ایمان ہو تا تو وہ اس قدر ڈھٹائی سے یہ بات نہ کہ سکتے ۔اور اصفہانی جیسے بہتان طراز انسان کو ان تقاضوں کے پورے ہونے پر تنکابرابر بھی اگر ثبوت میسر آتا تو وہ شہتیر بنا کر ضرور پیش کرتا لیکن اس قول میں اصفہان سے لائی ہو ئی نمرودی آتش کے بجز اصفہانی کے پاس کچھ تھا نہیں اس لئے محض ظن و تخمین پر گزار ا کیا، جسے قرآن کریم نے حرام قرار دیا ہے۔ اصفہانی یا ان جیسے دیگر حضرات اس طرح کی افترابازی اس لئے کرتے ہیں تاکہ انگریز پرستوں کے اس مکروہ چہرے پر پردہ ڈالا جاسکے جن کی بدروئی کی وجہ سے ۶۲ سال گزرنے کے باوجود”روئے پاک “پر حُسنِ اسلام نہیں سج سکا۔الغرض انگریز پرستوں کا جو مکروہ چہرہ تاحال نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے ،اس مکروہ چہرے کے خدو خال کیا ہیں جن کے سبب مولانا حسین احمد مدنی اور مفتی کفایت اللہ رحمہما اللہ لیگ سے بیزار اور لا تعلق ہو گئے تھے۔ چنانچہ علماء کی مایوسی اورلاتعلقی کے چند اسباب بطور نمونہ ملا حظہ فرمائیں۔
ا:۔ ۱۹۳۶ء کے صوبائی انتخاب میں جناح صاحب نے مسلم جماعتوں کو لیگ کے پلیٹ فارم پر جمع ہو نے کا مشورہ دیا جناح صاحب نے جمعیت علماء ہند سے اتحاد و تعاون کی درخواست کی اور وہ اس شرط پر اتحاد و تعاون کے لئے آمادہ ہو ئے کہ لیگ سے انگریز پرست ، رجعت پسند اور خوشامدی ٹولے کو نکالا جائے، قائد نے مکمل آمادگی کے ساتھ وعدہ کیا کہ اگر ایسا نہ کر سکا تو میں لیگ چھوڑ کر آزاد جماعتوں میں شامل ہو جاوٴں گا۔ مگر افسوس کہ قائد نہ تو سرکار پر ست ٹولے سے مسلمانوں کو نجات دلا سکے اور نہ ہی مسلم لیگ سے علیحدہ ہو ئے۔شیخ الاسلام حضر ت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نور اللہ مرقدہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”مسٹر جناح نے ۳۶ء کے الیکشن کے لئے جمعیة علماء ہند سے اتحاد و تعاون چاہا۔وہ زمانہ ولنگٹن کی حکومت کا تھا اور آزادی خواہ جماعتوں کی ہر قسم کی غیر قانونی جد و جہد پر سخت قانونی پابندیاں عائد تھیں،مسٹر جناح نے ہم سے چند گھنٹے گفتگو کی اور درخواست پر زور دیا اور کہا کہ میں ان رجعت پسندوں سے عاجز آگیا ہوں اور ان کو رفتہ رفتہ لیگ سے خارج کرکے آزاد خیال اور ترقی پسند لوگوں کی جماعت بنانا چاہتا ہوں۔تم لوگ اس میں داخل ہو جاوٴ ۔ہم نے عرض کیا اگر آپ ان لوگوں کو خارج نہ کر سکے تو کیا ہوگا۔ تو فرمایا کہ اگر میں ایسا نہ کر سکا تو میں تم لوگوں میں آجاوٴں گا اور لیگ چھوڑ دوں گا۔اس پر مولانا شوکت علی مرحوم اور دیگر حضرات نے اطمینان کیا اور تعاون کرنے پر تیار ہوگئے۔ “ (مکتوبات شیخ الاسلام :۱/۳۶۰)
۲:۔مسلم یونٹی بورڈ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مسٹر جناح نے واشگاف الفاظ میں ارشاد فرمایا تھا کہ مذہبی معاملات میں ہر فیصلہ جمعیت علماء ہند کی رائے کے مطابق ہو گا اور بصورت دیگر مسلم لیگ چھوڑ کر آزاد جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔سید طفیل احمد مرحوم لکھتے ہیں:
”اس کے بعد (یعنی مرکزی اسمبلی کے انتخابات کے بعد) جب کہ صوبوں کی اسمبلیوں کے انتخابات کا وقت آیا تو شروع ۳۶ء میں یونٹی بورڈ کی مجلس عاملہ نے دہلی میں ایک اجلاس منعقد کیا ۔ اس میں مسٹر جناح کی طرف سے مسٹر عبدالمتین چوہدری نے کہا کہ بجائے یونٹی بورڈ کے مسلم لیگ کے نام سے الیکشن لڑا جائے اور اس پُرانی جماعت کو مضبوط کیا جائے۔ دوسرے روز قرول باغ میں مولانا شوکت علی کے مسکن پر اس بارہ میں مفصل مشورہ ہوا۔جس میں یونٹی بورڈ ،مسلم لیگ اور جمعیت العلماء کے خاص خاص اراکین شامل تھے ۔ اس میں بحث پیش آئی کہ جو لوگ اپنا مسلک ”کامل آزادی“ میں رکھتے ہیں وہ مسلم لیگ کے ممبر کس طرح بن جائیں،اس پر مسٹر جناح نے کہا کہ جو لوگ آگے ہیں ان کا پیچھے والوں کے ساتھ شامل ہو جانا کوئی قابل اعتراض عمل نہیں ہے۔ہم لوگ آپ کے پیچھے چلیں گے اس وقت حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ آپ ۱۹۲۰ء میں بھی تو ہمارے ساتھ تھے اب اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آپ آئندہ بھی آپ ساتھ رہیں گے۔مسٹر جناح نے فرمایا کہ” نہیں میں اب ساتھ سے نہیں ہٹوں گا“ ۔اسی سلسلے میں آپ نے فرمایا کہ ” میں آزادی خواہ طاقتوں کی حمایت کروں گا خود غرض، سرکار پرستوں اور سرکاری عنصر کو مسلم لیگ پارلمینٹری بورڈ میں نہ لوں گا…اور مذہبی معاملات میں ہر فیصلہ علماء ہند کی رائے کے مطابق کروں گا۔ اگر اس سے معذور رہا تو مسلم لیگ چھوڑ کر آزادی خواہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کروں گا۔“ ان معاہدوں کے بعد قرار پایا کہ بجائے مسلم لیگ کے ” مسلم لیگ پارلیمنڑی بورڈ “ الیکشن کی غرض سے قائم کیا جائے جس میں تمام مسلم جماعتیں شریک ہوں “ (روح روشن مستقبل ،ص:۱۲۷،۱۲۸)
۳:۔ بقول چوہدری خلق الزمان جمعیت علماء اور اس کے رہنماوں (حضرت مدنی اور مولانا احمد سعید) نے لیگ کو کامیاب کرانے کے لئے صوبہ یو پی کی خاک چہان ڈالی انتھک محنت کی جس کے نتیجہ میں یو پی میں مسلم لیگ کو اسی فیصدکامیابی ملی ،مگر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پہلے ہی اجلا س میں مسلم لیگ نے جمعیت علماء ہند کے ساتھ کئے گئے تمام عہدو پیمان توڑ دیئے اور رجعت پسندی خوشامدی اور سرکار پرست طبقہ مسلم لیگ میں گھن کی طرح گھس گیا۔چنانچہ مسلم لیگ سے علیحدگی کے اسباب و محرکات بیان کرتے ہوئے حضرت مدنی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”مگر افسوس کہ لیگ نے کامیاب ہونے کے بعد پہلے ہی اجلاس لکھنو میں اپنے عہود اور اعلانات کو توڑ دیا اور ان رجعت پسند خوشامدی ،انگریز پرست لوگوں کو لیگ پارٹی میں داخل کرنے کے خواست گارپر زور طریقے پر ہوئے جن کو خارج کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔اور ان کی پُر زور مذمت کررہے تھے اور جن کے متعلق ہر شخص کو معلوم تھا کہ ہمیشہ ان کی زندگی قومی تحریکات کی مخالفت اور انگریز پرستی میں گزری ہے۔ان سے وہیں کہا گیا کہ آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ ان لوگوں کو نکال دیا جائے گا اور آج ان کو لیگ میں لانے اور پارٹی میں ان کو جگہ دینے کی کوشش کررہے ہیں تو بگڑکر کہا کہ وہ پولیٹکل وعدے تھے۔ علاوہ اس کے اور متعدد اعمال خلاف اعلان و عہود کئے جس کی بناء پر سخت مایوسی ہو ئی اور بجز علیحدگی اور کوئی صورت سمجھ میں نہ آسکی انہوں میں مرکزی اسمبلی نے شریعت بل پاس نہ ہونے دیا قاضی بل کی سخت مخالفت کی، انفساخ نکاح کے متعلق غیر مسلم حاکم کی شرط کو قبول کرلیا، آرمی بل پاس کیا وغیرہ وغیرہ۔“ (مکتوبات شیخ الاسلام :۱/۳۶۱) عبارات بالا کی توضیح، جمعیة اور مسلم لیگ کے باہمی اختلا ف و جمعیت کی مسلم لیگ سے علیحدگی کے ایک اور سبب کی نشاندہی کرتے ہوئے غلام نبی جانباز لکھتے ہیں:
”انتخابات ختم ہونے پر مارچ ۱۹۳۷ء میں مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کا جو پہلا اجلاس ہوا اس میں تمام رجعت پسند ممبران شامل ہوئے ۔ اس پر جمعیت علماء ہند نے اعتراض کیا کہ جمعیت علماء اور مسلم لیگ سمجھوتہ، اس بنیاد پر تھا کہ مسلم لیگ سے تما م رجعت پسند عناصر کو نکال دیا جائے گا تو آج انتخابات کی کامیابی کے بعد ایسے عناصر کو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شامل کرنا اپنے وعدوں سے انحراف کرنا ہے۔ “ (حیات امیر شریعت،ص:۲۱۲)
۴:۔ اسمبلی میں شریعت بل، قاضی بل اور دیگر مختلف بل، جو جمعیت علماء ہند کی طرف سے پیش کئے تھے مسلم لیگ کی طرف سے ان کی سخت مخالفت کی گئی۔
۵:۔ مسلم لیگ سمیت ہندوستان کی تمام آزادی خواہ جماعتوں نے حکومت کے ایکٹ ۳۵ء کے تحت جدید آئین کو ناقص اور ناقابل عمل قرار دیا تھا، یکم اپریل ۳۷ء ایکٹ ۳۵ء کے نفاذ کا دن تھا، اس دن تمام آزاد خواہ جماعتوں نے جدید آئین کے خلاف ہڑتال کا فیصلہ کیا ہوا تھا لیکن لیگی قیادت نے اس ہڑتال میں حصہ لینے کی بجائے اس کی مخالفت کی اور مسلم لیگ کی تمام شاخوں اور عام مسلمانوں کو اس ہڑتال میں حصہ نہ لینے کا حکم اور اپیل کی۔سید طفیل احمد مرحوم لکھتے ہیں:
”یکم اپریل کا دن کانگریس اور دیگر آزادی خواہ جماعتوں نے جدید آئین کے نفاذ کے خلاف عام ہڑتا ل کرنے کے لئے مقرر کیا تھا۔مسٹر جناح پریذیڈنٹ مسلم لیگ نے بغیر مسلم لیگ کی کونسل میں پیش کئے خود اپنی مرضی اور اپنے حکم سے اعلان کردیا کہ مسلمان اس ہڑتال میں شریک نہ ہوں درانحالیکہ خودمسلم لیگ جدید آئین کو ناقص قرار دے چکی تھی۔ اس اعلان سے مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوا اور جمعیت علماء کے لوگوں نے اور بہت سے مسلمانوں نے ہڑتال میں حصہ لیا“ (روشن مستقبل ،ص:۴۵۳،روح روشن مستقبل،ص:۱۳۰)
قارئین !یہ تصویر کا وہ حقیقی رُخ ہے جس کے سبب علماء حق، مسلم لیگ کے زہریلے بچھووں کو باربار ڈسنے کا موقع نہیں دے سکے جس کی وجہ سے لیگی ذہنیت علماء کے خلاف زہر یلا پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہے او رانگریز کا حق پرورش ادا کرنے کے لئے علماء پر الزمات عائد کررہی ہے، یہ ناانصافی صرف حضرت مدنی اور ان کے قافلہٴ حق کے زعماء ملت کے ساتھ نہیں بلکہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ اور حضرت عثمانی کے ساتھ بھی ہوئی ہیں۔ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمة اللہ کا وہ تاریخی خط ،ریکارڈ پر ہے کہ جو سر سکندر حیات کے اس خط کے جواب میں تھا جو سر سکندر نے ۱۹۳۹ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کے حمایت کے لئے لکھا تھا۔ حضرت تھانوی کے اس تاریخی جواب میں لیگ کا حقیقی چہرہ اور حضرت تھانوی رحمة اللہ کی ناراضگی و مایوسی عیاں ہو جاتی ہے۔وہ خط یہ ہے۔
از اشرف علی عفی عنہ ۔یکم رجب بروز جمعہ ۱۳۵۸ھ
مکرمی زاد لطفکم
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
”․․․․میں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسہ پٹنہ میں ایک پیغام بھیجا تھا جو وہاں پڑھا گیا تھا اور سب حضرات کو تقسیم بھی کیا گیا تھا اس میں صرف دو چیزوں کی طرف میں نے توجہ دلائی تھی اول نماز کی پابندی کو لیگ کے مقاصد میں شامل کیا جاوے، دوسرے ”وضع اسلامی“ کو لیگ کے ہر ممبر پر لازمی قراردیا جاوے ۔ نماز کا ارکان اسلام میں اہم ترین رکن ہونا ہر مسلمان کو معلوم ہے، اور وضع خاص رکھنا تو ایسی چیزہے کہ دنیا کے تمام سیاست دان اس کو ضروری خیال کرتے ہیں ۔جرمنی کا لباس الگ ہے فرانسیسی کا الگ وعلی ھٰذا۔ اور فوجی وردی تولازمی طورپر الگ ہوتی ہے ،اگر جرمنی سپاہی مثلا انگریزی وردی پہن کر جرمنی فوج میں شامل ہواور ویسے ہر طرح وفادار اور مستعد ہو ،لیکن صرف وردی کی تبدیلی کی وجہ سے وہ مستوجب سزا کا ہو گا ، وعلی ھٰذا تو کیا مسلمان کے لئے جو حق تعالیٰ کی فوج ہے کوئی خاص وضع امتیاز ضروری نہیں ہے؟ہے اور ضروری ہے!لیکن افسوس کہ حضرات لیگ نے ان دونوں باتوں کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی، اگر ان باتوں کی طرف توجہ فرماتے تو دین کی اور باتیں بھی جو ترقی دنیا میں بھی موثر ہیں، میں اور بتاتا مگر مجھے واقعی حضرات لیگ سے شکایت ہے کہ مولویوں کو صرف الیکشن کے وقت پوچھا جاتا ہے اور ان کے فتووٴں پر عمل کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور پھر ان کی بات کی طرف کوئی کان نہیں دھرتا ،ہم اگر ذاتی منافع کے لئے کچھ بھی لکھیں تو بے شک نہ سنئے نہ مانئے !لیکن اگر ان حضرات کو ہم پر اعتماد ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم فتویٰ صحیح دیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ الیکشن ہی کے لئے صحیح ہو تا ہے دوسرے وقت وہ قابل عمل نہیں ہوتا ؟…“ (بحوالہ سیرت اشرف ،ص:۶۰۸، ۶۰۹)
کیا میر صاحب حضرت تھانوی کی اس حمایت نہ کرنے پر بھی وہ کچھ کہیں گے جو وہ حضرت مدنی کے بارے میں ارشاد فرما چکے ہیں یا خاموش رہیں گے یا مسلم لیگ کو موسم لیگ بننے پر کوسنا ضروری سمجھیں گے؟
اسی طرح حضرت میر اور ان کے کاروان سے دیانت کا سوال ہے کہ کیا ہماری ۶۲ سالہ مادر وطن میں علامہ عثمانی کی قرار دادوں کے مطابق نظام ڈھالا جا چکا ہے؟ ان ناانصافوں سے تو یہ شکوہ ہے کہ ظالمو! علامہ عثمانی نے تو پاکستان بنانے کے لئے سیاہ راتوں میں بارش کی طرح آنسو بہائے تھے طلوع پاکستان کااجالا ہوجانے پرانہیں رُلایاکیوں گیا تھا؟ علامہ عثمانی کے ساتھ یہ ناانصافی کسی ہندوستانی نے نہیں بلکہ پاکستان کے پاکیزہ پاکباز وں ہی نے کی تھی۔رہا میر وقت کا یہ مشورہ کہ مولانا فضل الرحمٰن ،مولانا حسین احمد مدنی کا راستہ چھوڑ کر علامہ شبیر احمد عثمانی کے طریقہ پر چلیں“ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی خوش قسمتی ہے کہ وہ مدنی و عثمانی دونوں میں سے جس کی پیروی کریں وہ دونوں بزرگ ہم سب کے سروں کے تاج ہیں، دونوں ہمارے لئے مقدس ہستیاں ہیں دونوں اپنی اپنی رائے میں مخلص و دیانتدار تھے، ایک نبوی ارشاد سے یہ اصول معلوم ہو تا ہے کہ جن مقدس ہستیوں کے ایمان و اخلاص اور دیانت و ہدایت پرامت مسلمہ گواہی دے چکی ہو ان میں سے جس کا دامن تھام لوگے ہدایت یافتہ بن جاوٴگے اور یہ کہ تمہیں ان مقدس ہستیوں کے درمیاں تفریق اور تقسیم مراتب کا حق نہیں پہنچتا۔ (سورہ بقرہ)
اس سے یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اوران جیسے دیگر علماء کرام کے لئے حضرت مدنی اور حضرت عثمانی دونوں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
جبکہ مولانا فضل الرحمٰن سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہمارے” میر وقت
Flag Counter