Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق کراچی رجب المرجب 1430ھ

ہ رسالہ

10 - 18
***
عالم اسلام کے گرد ملٹی نیشنل کمپنیوں کا شکنجہ
محترم ابو محمد
کوکا کولا کے تحت روزانہ96 لاکھ ڈالر مسلم دنیا اسرائیل کو دے رہی ہے میکڈونلڈ اسرائیل کو سپورٹ کرنے والا تیسرا بڑا ادارہ ہے۔
ملٹی نیشنل کمپنی اس کمپنی کو کہتے ہیں جس کا ہیڈکوارٹر کسی ایک ملک میں ہو اور بزنس کئی ممالک میں ہو ۔ تقریباً 1200 ملٹی نیشنل کمپنیاں اس وقت دنیا میں کام کر رہی ہیں 500 کمپنیاں ان میں قابل ذکر ہیں جن میں سے 161 امریکا،128 جاپان اور 125 یورپ کی ہیں۔
دنیا کے تقریباً245 ممالک پر یہ 500 کمپنیاں حکومت کر رہی ہیں ۔ یہ کمپنیاں اس قدر طاقتور ہو چکی ہیں کہ جب چاہیں اپنی مرضی کے لوگ اقتدار میں لے آتی ہیں ، دنیا کی ساری طاقتیں سمٹ کر ان کی مٹھی میں آچکی ہیں ۔ اس وقت دنیا کی کل دولت 40 ٹریلین ڈالرز ہے ، اس میں سے 36 ٹریلین ڈالرز پر ملٹی نیشنل کمپنیاں قابض ہیں ۔ یہ کمپنیاں ظاہری طور پر اگر چاہیں تو پوری دنیا کی بجلی بند کر دیں ، ٹیلی فون کا نظام جام کر دیں ، ریلوے، جہاز او ربحری سفر کا سلسلہ بند کر دیں ، ٹریفک جام کر دیں ، خوراک بند کر دیں او رجب چاہیں بینکوں کو دیوالیہ کر دیں۔
اس وقت دنیامیں پچاس ایسی بڑی کمپنیاں ہیں جو دن رات ترقی کر رہی ہیں۔ ان میں سے 43 کا تعلق امریکا سے ہے ،3 کمپنیاں جاپان، ایک ہالینڈ، ایک سوئزر لینڈ، ایک برطانیہ اور ایک سنگاپور سے تعلق رکھتی ہے ۔ امریکی کمپنیوں میں الیکٹرانک کمپنی وانشورنس کمپنی، برک شائر، جنرل الیکٹرک، وال مارٹ اسٹورز ، مائیکروسافٹ، جانسن اینڈ جانسن، ڈاک کمپنی، ہارڈ ویر کمپنی، دوا ساز کمپنی، پارسل سروسز، گھریلو اشیاء کی کمپنیز، الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا، مشروبات وپٹرولیم مصنوعات کی کمپنیز، اریکسن موبائل، کوکاکولا، لائف انشورنس کمپنی، فضائی کمپنی، تفریح کمپنی وائٹ ڈائی، ڈبوک انرجی کمپنی، ڈیو پوائنٹ، بونگ کارپوریشن، کاسمیٹکس کمپنی، کولگیٹ، پامولیو، سن مائیک سسٹم، ایف بی سی کمیونیکیشنز، گاڑیاں بنانے کی فرم فورڈ موٹرز، چین کروگر اور آلات بنانے والی فرم ٹیکساس انسٹروشن وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فن لینڈ کی نوکیا، جاپان کی ٹیوٹا، سونی اور ہنڈا موٹرز، سوئزر لینڈ کی نیسلے، برطانیہ کی بی پی اور سنگاپور ائیر لائنز وغیرہ شامل ہیں۔
یہ کمپنیاں اس وقت دنیا کی 70 سے 75 فیصد دولت کی مالک ہیں۔ یورپ کی 25 بڑی کمپنیوں میں سے جرمنی کی کمپنی کریسلر پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے اثاثہ جات کی مالیت ایک لاکھ پچاس ہزار انہتر ملین ڈالر ہے۔ ایشیا کی 25 بڑ ی کمپنیوں میں سے 21 کا مالک جاپان ہے جب کہ تین چین اور ایک جنوبی کوریا کے پاس ہے ۔ ایشیا کی25 بڑی کمپنیوں میں جاپان کی مٹشوبشی پہلے نمبر ہے، اسکے اثاثہ جات کی مالیت ایک لاکھ 26 ہزار88 ملین ڈالر ہے۔
ان کمپنیوں میں سب سے غریب کمپنی سوئی ٹومولائف ہے جو37 ہراز 5 سو 35 ملین ڈالر کے اثاثہ جات کی مالک ہے یہ اثاثے پاکستان کے بجٹ سے تین گنا زیادہ ہیں۔ دنیا کی دس بڑی منافع کمانے والی کمپنیوں میں 8 امریکی ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ منافع ہالینڈ کی کمپنی شیل کمارہی ہے۔ یہ سالانہ10اعشاریہ8 بلین ڈالر کماتی ہے۔
مسلم ممالک او رملٹی نیشنل کمپنیاں
اس وقت دنیا میں تیل پیدا کرنے والے 11 بڑے مالک ہیں جن میں سے دس ممالک مسلمان ہیں الجیریا، انڈونیشیا، ایران، کویت ، عراق، لیبیا، قطر، نائجیریا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات۔ ایک غیر مسلم ملک ہے، وینزویلا۔
سعودی عرب کے پاس 2 لاکھ62 ہزار7 سو 84 ملین بیرل خام تیل کے ذخائر ہیں اور 6 ہزار ایک سو46 بلین کیوبک میٹر قدرتی گیس ہے اور روزانہ 7ہزار5 سو 84 بیرل تیل 46 ہزار 2 سو ملین کیوبک گیس سعود ی عرب نکالتا ہے اور ہر سال سعودی عرب 44 ہزار9 سو 34 ملین ڈالر کا تیل فروخت کرتا ہے۔
سعودی عرب کے بعد تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ عراق میں ہے ۔ عراق میں ایک لاکھ 12 ہزار5 سو بیرل تیل اور3 ہزار ایک سو اٹھائیس بلین کیوبک میٹر گیس نکلتی ہے ۔ایران کے پاس 93 ہزار ایک سو ملین بیرل تیل اور 22 ہزار 3 سو 70 ملین کیوبک میٹر گیس ہے ۔ لیبیا کے پاس 29 ہزار 5 سو ملین بیرل تیل اور ایک ہزار 3 سو15 بین کیوبک میٹر گیس ہے۔ الجیریا کے پاس 11 ہزار 314 بلین بیرل تیل اور 4 ہرار5 سو 20 بلین کیوبک میٹر گیس ہے ، نائیجیریا کے پاس 22ہزار 5 سو ملین بیرل تیل اور 4 ہزار4 سو80 بلین کیوبک میٹر گیس ہے اور وینزویلا میں 76 ہزار8 سو84 ملین بیرل تیل اور 4 ہزار ایک سو 52 بلین کیوبک میٹر گیس موجود ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ تیل بلکہ تقریباً سارا تیل مسلمانوں کے پاس ہے او رملٹی نیشنل کمپنیوں میں یورپ کی اجارہ داری کی وجہ سے ایک بھی مسلمان ملک ان میں شامل نہیں جب کہ وینزویلا جو غیر مسلم ملک ہے ، دنیا کی 500 بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں شامل ہے اور20 سے زائد امریکی کمپنیاں ایسی ہیں جو مسلمان ممالک سے تیل لے کر فروخت کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے اثاثہ جات کی مالیت2 لاکھ10 ہزار 3 سو92 ملین ڈالر ہوچکی ہے۔
ملٹی نیشنل کمپنیوں میں 3 بڑے نام اس وقت دنیا میں چھائے ہوئے ہیں جن میں کوکاکولا پہلے نمبر پر ہے۔1886ء میں اس کمپنی کا آغاز ہوا اور 1960 میں اسپرائٹ اور فانٹا بھی اس کی ملکیت میں آگئیں۔ ہندوستان میں یہ کمپنی لمکا(limca) کے نام سے اپنا مشروب فروخت کرتی ہے ۔ تقریباً200 ممالک میں اس کا کاروبار موجود ہے۔
دوسرے نمبر پر بڑی کمپنی میکڈونلڈ ہے جس کی دنیا کے120 ممالک میں 27000 سے زائد ریسٹورنٹ ہیں اس کمپنی کا آغاز1955 میں ہوا ۔ تیسر ے نمبر پر والٹ ڈزنی کمپنی ہے جو کہ ABCٹیلی ویژن نیٹ ورک اور ABC ریڈیونیٹ ورک کی مالک ہے جس کے تحت فلموں کی اشاعت اورکتب وجرائد وغیرہ کی اشاعت ہوتی ہے۔
یہودیوں کے ساتھ کوکاکولا کا تعاون
کوکاکولا1966ء سے اسرائیل کی بہت بڑی معاون ہے۔1997ء میں اسرائیل حکومت کے اقتصادی مشن نے کوکاکولا کو اس کی خدمت کے اعتراف میں اسرائیل ٹریڈ ایوارڈ دیا۔ کوکاکولا کے تحت روزانہ96 لاکھ ڈالر مسلم دنیا اسرائیل کو دے رہی ہے۔
میکڈونلڈ اسرائیل کو سپورٹ کرنے والا تیسرا بڑا ادارہ ہے
اس کا مالک عمری فیران یہودی ہے۔ اس کو اسرائیل کی شہریت حاصل ہے۔ میکڈونلڈ کا ہیڈ آفس شگاگو میں ہے اور یہیں سے ہر سال عالمی یہودی ریاست کے قیام کے لیے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے سوچنے کی بات ہے کہ فلسطینیوں پر حملے کے لیے استعمال ہونے والے اسلحے کی قیمت ہم ان کمپنیوں کی اشیاء خرید کر ادا کررہے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، زراعت کے لیے زرعی صنعت کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے 95فی صد ادویات ملٹی نیشنل کمپنیوں سے حاصل کرتا ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی ٹیکنالوجی کبھی کسی ملک کو منتقل نہیں کرتیں بلکہ سپیئر پارٹس، خام مال یا مکمل چیز کی صورت میں مصنوعات دیتی ہیں۔
ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بائیکاٹ کا فتویٰ
دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام نے ایک متفقہ فتویٰ جاری کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ جارح ممالک کے ظلم وتشدد سے اظہار نفرت کے لیے امریکا اور برطانیہ کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔
فتویٰ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مسلمانوں کا سخت احتجاج ہو رہا ہے۔ افغانستان اور عراق پر امریکی جارحیت دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی ہے ۔ امریکا کی جنگی کارروائیوں میں معصوم بچے اور عورتیں شہید ہور ہی ہیں اور قیمتی املاک تباہ ہو رہی ہیں۔
اسلامی نقطہ نظر سے یہ ضروری ہو چکا ہے کہ مسلمان امریکا اور برطانیہ او ران کے اتحادیوں کی پالیسیوں سے اظہار نفرت کے لیے ان کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں اور ہمیں چاہیے کہ ہم ایک انڈا اور ایک روٹی سے ناشتہ کر لیں ، چائے، کافی،کولڈڈرنک کی بجائے، لسی ، جواور ستو اور روح افزاء وغیرہ کا شربت استعمال کریں ، باجر ے کی روٹی اور سرسوں کا ساگ کھا کر گزارہ کریں ، کوہاٹ کی چپل پہنیں، کمالیہ کا کھدر اور کراچی کی کاٹن استعمال کریں۔ اس طرح ہم بڑی حد تک یورپ اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔
عرب ممالک کا بائیکاٹ
عرب ممالک میں 20 سے 30 فی صد تک ان اشیاء کی خرید وفروخت میں کمی آچکی ہے۔ مراکش میں اسلام پسنداخبارات نے امریکی ڈالر کے خلاف مہم شروع کی ہے جس میں عوام سے اپیل کی جارہی ہے کہ وہ اپنے کاروبار ی مقاصد کے لیے ڈالر کا استعمال ترک کردیں اور مقامی کرنسی استعمال کریں اور غیر ملکی کرنسی کی شدید ضرورت کی صورت میں یورو استعمال کریں۔ ان اخبارات کے اداریوں میں تمام مسلمان ممالک کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنی مشترکہ کرنسی بنائیں۔
آئیے، ہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بائیکاٹ کی مہم اپنے آپ سے شروع کریں اور ہم روز مرہ زندگی میں وہ اشیاء استعمال کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ ہو۔ چند ماہ ہی سہی ہم اگر کچھ تکالیف برداشت کر لیں تو ہم یورپ اور امریکا کو اقتصادی طور پر تباہ کرسکتے ہیں اور ہم میں سے اگر ہر مسلمان انفرادی طور پر ایسا کرے تو ہم صرف ایک ہفتے میں امریکا، یورپ اور یہودیوں کو اپنے قدموں میں لاسکتے ہیں اور ہم ان کو اپنے پاؤں تک پکڑوا نے پر مجبور کرسکتے ہیں۔
”اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا“
آخر میں ایک بات اور عرض کرنا ضروری سمجھوں گا کہ قادیانیوں کے اداروں کا بھی مکمل بائیکاٹ کریں بلکہ قادیانیوں سے تو خریدوفروخت بھی جائز نہیں ہے کیوں کہ یہ زندیق ہیں اور ایک مسلمان کے لیے زندیق سے خریدوفروخت جائزنہیں ہے ۔ فتنہ مرزائیت کو مالی طور پر مضبوط کرنے میں شیزان کمپنی سر فہرست ہے، اس کمپنی نے 1980ء میں قادیانی جماعت کو جو سالانہ چندہ دیا وہ ایک کروڑ اکاون ہزار تھا۔ قادیانی اس چندے کے ذریعے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی مسند نبوت پر مرزا قادیانی کو بٹھاتے ہیں اور اسے محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے طور پر پیش کرتے ہیں ( نعوذ بالله من ذالک) لہٰذا ان کے اداروں کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ ( بشکریہ”اذان فجر“)

Flag Counter