Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق کراچی ذوالقعدہ 1430ھ

ہ رسالہ

10 - 15
***
دل کی ہر دھڑکن ہمیں ہو شیار کرتی ہے
مولانا محمد قیصر حسین
انسان کی محدود زندگی میں وقت کی بڑی قیمت واہمیت ہے ، الله تبارک وتعالی کی بے حدوحساب نعمتوں میں سب سے زیادہ قیمتی اور سب سے اعلیٰ وقت ہی ہے، خاص طور سے اساتذہ اور طلبا کے لیے وقت ہی اصل پونجی اور نفع ہے، وقت ایک خام مادہ ہے، جس کے صحیح استعمال سے انسان جو چاہے تیار کر سکتا ہے ، وقت فوت ہو جانے کے بعد کبھی واپس نہیں آتا، اسی وجہ سے مثل مشہور ہے ” گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں“۔
کھوئی ہوئی صحت علاج ومعالجہ اور مفید دواؤں سے بحال ہو سکتی ہے، گم شدہ علم ومعرفت بحث وتحقیق ، درس وتدریس اور مراجعہ ومطالعہ سے حاصل ہو سکتی ہے ، ضائع شدہ دولت وثروت، تجارت وزراعت اور دیگر صنعت وحرفت سے حاصل کی جاسکتی ہے ، لیکن گزرے ہوئے لمحات کو کسی طرح لوٹا یا نہیں جاسکتا لہٰذا عقل مند انسان کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے عزیز ترین اوقات اور اپنی محدود زندگی کے قیمتی لمحات کو بے مقصد ولایعنی باتوں، بے تکلف دوستوں، ہم نشینوں کے ساتھ خوش گپیوں میں ان کی غیر مفید مجلسوں میں ضائع کرے۔
جو انسان اپنی محدود زندگی کے ہر لمحہ اور اپنے قیمتی اوقات کو نظم ونسق اور ترتیب ونظام سے گزارتا ہے وہ اپنے پیچھے عظیم کارنامے، لائق شکر وتحسین خدمات اور اپنا بہترین ذکر خیر چھوڑ جاتا ہے اور لوگ اسے ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔
وقت ہی زندگی ہے ، وقت کی قیمت واہمیت کی طرف قرآن نے بہت سی آیتوں میں توجہ دالائی ہے ، ارشاد ربانی ہے ﴿ان الصلاة کانت علی المؤمنین کتابا موقوتا﴾․ ﴿ والعصر ان الانسان لفی خسر﴾․
فرمان نبوی ہے:” عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس: الصحة والفراغ“․ (رواہ البخاری والترمذی وابن ماجہ) صحت وفراغ دو ایسی نعمتیں ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارہ میں ہیں ، صحیح حدیث میں ہے: ”من قال سبحان الله وبحمدہ غرست لہ بھا نخلة فی الجنة،فکم یضیع الآدمی من ساعات یفوت فیھا الثواب الجزیل، وھذہ الایام مثل المزرعة فھل یجوز للعاقل ان یتوقف عن البذر او یتوانی؟!“․
جس نے بھی سبحان الله العظیم وبحمدہ کہا اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا باغ لگایا جائے گا ، انسان کتنے ایسے اوقات کو ضائع کر دیتا ہے جن میں اس سے اجر عظیم فوت ہو جاتا ہے، اس زمانہ کی مثال ایک کھیتی کی طرح ہے تو کیا عقل مند کے لیے جائز ہے کہ وہ بیج نہ لگائے یا اس کے لگانے میں سستی کرے؟!
وقت کی اسی قیمت واہمیت کو دیکھتے ہوئے علما ، حکما اور شعرا نے اس سے خوب خوب فائدہ اٹھایا او رامت کو بھی فائدہ پہنچایا۔
کسی مفکر کا مقولہ ہے” اگر تم زندگی چاہتے ہو تو وقت کو بے کار ضائع نہ کرو، کیوں کہ وقت ایک ایسا مادہ ہے جس سے زندگی بنتی ہے اور سنورتی ہے ۔“ کسی دوسرے مفکر کا کہنا ہے کہ الله تعالیٰ ایک وقت میں ایک ہی منٹ دیتا ہے، دوسرا منٹ اس وقت تک نہیں دیتا جب تک کہ پہلا واپس نہیں لے لیتا ۔ عربی کی ایک مشہور مثل ہے۔”بقدر ماتسعی تنال ما تتمنی“․
محنت ومشقت اور جدواجتہاد ہی کے بقدر تمنائیں حاصل ہوتی ہیں۔ وقت سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے، وقت تلوار کی طرح ہے، اگر تم اسے استعمال نہیں کروگے تو وہ تمہیں کاٹ ڈالے گا۔
ایک دانش ور کا مقولہ ہے، جس نے وقت کی قدر وقیمت کو جان لیا اس نے زندگی کو پالیا، وقت ہی زندگی ہے۔“
شعرا نے بھی وقت کی قیمت واہمیت پر کثرت سے اشعار کہے ہیں، فقیہ شاعر وادیب عمارہ یمنی کا شعر ہے #
اذا کان رأس المال عمرک فاحترز
علیہ من الانفاق فی غیر واجب
جب تمہاری پونجی تمہاری زندگی ہی ہے تو تم اسے غیر ضروری چیزوں میں خرچ کرنے سے پرہیز کرو۔
امام رازی احمد بن فارس لغوی کا قول ہے #
اذا کان یوذیک حر الصیف
ویبس الخریف وبرد الشتاء
ویلھیک حسن زمان الربیع
فاخذک للعلم قل لی… متی؟
جب تمہیں موسم کی گرمی ، سرما کی سردی پریشان کرتی ہے او رموسم بہار کی رونق وبہار غفلت میں ڈالتی ہے تو بتاؤ علم کب حاصل کرو گے؟
امیر الشعرا احمد شوقی کہتے ہیں #
دقات قلب المرأ قائلة لہ
ان الحیلة دقائق وثوان
فارفع لنفسک بعد موتک ذکرھا
فالذکر للانسان عمر ثان
انسان کے دل کی حرکت اس سے کہتی ہے کہ زندگی نام ہے منٹوں اور سکنڈوں کا ،تم اپنی موت کے بعد کے لیے اپنے ذکر خیر اور چرچہ کو باقی رکھو، کیوں کہ ذکر خیر انسان کی دوسری زندگی ہے۔
علامہ ابوالمعالی محمود شکری آلوسی بغدادی کا مقولہ ہے:
” انسان میں کوئی خیر نہیں جسے گرمی وسردی اس کے کام سے روک دے۔“ ایک عابد وزاہد تابعی حضرت عامر بن عبد قیس سے کسی نے کہا کہ مجھ سے بات کیجیے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ”سورج کو روک لو، تاکہ میں تم سے بات کروں، اس لیے کہ زمانہ ہمیشہ متحرک رہتا ہے او رگزرتا رہتا ہے اور گزر جانے کے بعد واپس نہیں آتا ، لہٰذا اس کا خسارہ ایسا ہے جس کی تلافی ناممکن اور محال ہے۔“
حضرت عبدالله بن مسعود سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں کسی شے کے فوت ہونے پر اتنا نادم نہیں ہوا جتنا کہ اس دن کے فوت پر نادم وشرمندہ ہوا جس کا سورج غروب ہو گیا ، میری محدود زندگی میں ایک دن کی کمی ہو گئی اورمیرے عمل میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
قاضی امام ابویوسف امام اعظم حضرت ابوحنیفہ کے شاگرد رشید،ان کے علم ومسلک کے ناشر، تین خلفائے عباسی کے قاضی رہے، جن کو سب سے پہلے قاضی القضاة کا لقب ملا، جو قاضی قضاة الدنیا کہلاتے ہیں، حالت نزع میں بھی فقہی بحث ومباحثہ او رمناقشہ میں مشغول تھے کہ شاید اس سے کسی کو فائدہ پہنچ جائے ، ان کی زندگی کا کوئی لمحہ مطالعہ، مراجعہ، مذاکرہ، بحث وتحقیق اور افادہ واستفادہ سے خالی نہیں تھا، ان کے شاگرد قاضی ابراہیم بن جراح کوفی بیان کرتے ہیں کہ میں ان کے مرض الوفاة میں ان کی عیادت کے لیے گیا تو ان پر بے ہوشی طاری تھی، جب ہوش آیا تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا ابراہیم فلاں مسئلہ میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا اس حالت میں بھی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کوئی حرج نہیں ہے ہم مذاکرہ کریں، تاکہ اس سے کسی کو نجات مل جائے ، اس طرح وہ کئی فقہی مسائلمیں مجھ سے سوالات کرتے رہے، پھر میں ان کے پاس سے اٹھ کر ان کے گھر کے دروازہ تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ رونے کی آواز آنے لگی یعنی وہ الله کو پیارے ہو گئے ۔ ( فضائل ابی حنیفہ ، واصحابہ لأبی العباس بن ابی العوام( مخطوط) کتاب مناقب ابی حنیفہ للموفق المکی ومناقب ابی حنیفہ للحافظ الروینی الکردی) انہیں سے مروی ہے کہ میرے لڑکے کا انتقال ہو گیا، میں نے اس کی تجہیز وتدفین کی ذمہ داری ایک دوسرے شخص پر ڈال دی او رحضرت امام ابوحنیفہ کی مجلس درس سے غائب نہیں رہا، اس خوف سے کہ میرا ایک دن کا استفادہ فوت ہو جائے گا۔
خلیل بن احمد فراہیدی بصری دنیا کے ذہین ترین عالم تھے، وہ کہتے ہیں کہ میرے لیے سب سے زیادہ گراں وہ وقت گزرتا ہے جس میں میں کھانا کھاتا ہوں، کیوں کہ وہ علمی استفادہ سے خالی ہوتا ہے ۔
حضرت حسن بصری رحمة الله علیہ فرماتے تھے اے ابن آدم! تم زمانہ ہو، اگر ایک دن گزر گیا تو تمہارا بعض حصہ چلا گیا، وہ یہ بھی فرماتے تھے کہ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو تم سے تمہارے دینار ودرہم سے بھی زیادہ اپنے اوقات کی حفاظت کرتے تھے۔
حضرت امام عبدالحئی فرنگی محلی کی تصانیف کی تعداد ایک سو دس سے بھی زیادہ ہے، جو مشکل ترین اور مفید موضوعات پر مشتمل ہیں، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی تصنیفات ایک ہزار سے زائد ہیں۔ شیخ مصطفی سباعی نے اپنی مشہو رکتاب ”ھکذا علمتنی الحیاة“ جو تین جلدوں میں ہے، جودمشق کے مواساة نامی ہسپتال میں لکھی، وہ کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں”وبعد فھذہ خطرات بدأت تسجلیھا، وانا فی مستشفی المؤاساة بدمشق فی شھر ذی القعدة فی1381“ ․
ترجمہ: یہ ایسے احساسات وجذبات ہیں جن کو میں نے دمشق کے مواسات نامی اسپتال میں 1381ھ ذوالقعدہ میں قلم بند کیا ہے۔
مولانا ابو الکلام آزاد نے قید خانہ میں کہا کہ میری زندگی کے ہر لمحہ سے استفادہ کے معمول کو قید خانہ بدل نہیں سکا ،کیوں کہ میں بے کار وقت ضائع کرکے قید خانہ کی مصیبت میں اضافہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔
زندگی کے ہر لمحہ سے استفادہ کی ایک انوکھی او رنایاب مثال حضرت مولانا علی میاں رحمہ الله علیہ کی مثالی شخصیت ہے، جنہوں نے اپنے وقت کے صحیح استعمال سے ایسی قابل فخر دینی خدمات انجام دیں جسے دنیا کبھی فراموش نہیں کرسکتی اور ایسا علمی، تاریخی او رنادر سرمایہ چھوڑ گئے جن پر اسلامی لائبریریاں فخر کرتی رہیں گی، حالاں کہ وہ مختلف بیماریوں کے شکار او رتکلیفوں سے دو چار رہے اور اخیر عمر میں دواہی پر زندگی گزار رہے تھے لیکن ان کی بیماریوں نے ان کی زندگی کے ہر لمحہ سے استفادہ کے معمول پر کوئی اثر نہیں ڈالا اور زندگی کا کوئی لمحہ افادہ اور استفادہ سے خالی نہیں گزرا، بلکہ انہو ں نے اپنے پھٹکراوقات کا بھی بھرپور استعمال کیا اور اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور قصص النبیین للاطفال کی سنہری کڑی کی تالیف انہوں نے انہیں اوقات میں کی جن اوقات میں وہ بس اسٹینڈ اور اسٹیشنوں پر بس یا ٹرین کے انتظار میں ہوتے تھے۔
اسی طرح دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور ندوة العلما کے بانی حضرت مولانا محمد علی مونگیری اور علامہ شبلی نعمانی  وعلامہ سید سلیمان ندوی اور دوسری بہت سے ایسی اسلامی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات سی بھرپور استفادہ کیا اور جو بعد میں آنے والوں کے لیے ہر عمل خیر میں نمونہ اور ہر شرف وفضیلت کے لیے مثال تھے اور ان میں سے ہر ایک نے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے جو ایک اکیڈمی تو انجام دے سکتی ہے، لیکن ایک آدمی انجام نہیں دے سکتا۔
اور ہمارا حال اپنے قیمتی اوقات اور زندگی کے بیش بہا لمحات کو واہی تباہی، بکواس، غیر مفید اور لایعنی مجلسوں میں ضائع کرنے کا جو ہے وہ محتاج بیان نہیں۔
اخیر میں الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم لوگوں کو بھی اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے اور اپنی زندگی کے قیمتی لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

Flag Counter